اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

اسرائیلی سفیرنے اہم ملک سے معافی مانگ لی

datetime 8  جنوری‬‮  2017 |

لندن(آئی این پی)اسرائیلی سفیرنے برطانوی وزیر کے خلاف بیان پر معافی مانگ لی ۔برطانوی میڈیاکے مطابق برطانیہ کیلئے اسرائیل کے سفیر نے اپنے عملے کے ایک رکن کی جانب سے برطانوی وزراتِ خارجہ کے وزیرِ کو ہٹائے جانے کی بات کہنے پر معذرت کی ہے۔خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ایک فلم میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی سفارتخانے کے ایک سینیئر سیاسی اہلکار شائی موزاٹ نے لندن کے ہوٹل میں دورانِ گفتگو یہ بات کہی۔وہ ایک رپورٹر سے کہہ رہے ہیں کہ سر ایلن کافی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

اسرائیلی سفیر مارک ریگیو نے کہا ہے کہ یہ سفارتخانے یا حکومت کا موقف نہیں ہے۔یہ گفتگو الجزیرہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے دوران اکتوبر 2016 میں ریکارڈ کی گئی۔ اس گفتگو میں شامل مِس سٹرٹزولو نے سول سروس سے استعفی دے دیا ہے۔اس گفتگو کے دوران موزاٹ کہتے ہیں کہ کیا میں کچھ ایم پیز کے نام تجویز کروں جنہیں ہٹایا جانا چاہئیے۔جس پر سٹرٹزولو کہتی ہیں ہر ایم پی کچھ نہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔سر ایلن ڈنکن جنھوں نے غزہ میں یہودی بستیوں کو دنیا کے چہرے پر داغ قرار دیا تھا انھیں اسرائیلی اہلکار موزاٹ نے گفتگو میں بڑا مسئلہ قرار دیا جبکہ برطانوی وزیرِ خارجہ بورس جانس کے بارے میں کہا کہ وہ اچھے انسان ہیں۔انھوں نے کہا وہ بس لاپرواہ ہیں۔ وہ بے وقوف ہیں لیکن وہ وزیرِ خارجہ بن گئے بنا ذمہ داریوں کے۔ اگر کچھ ہوتا ہے تو وہ ان کی غلطی نہیں ہوگی۔ یہ ایلن ڈنکن کی ہوگی۔ سر ایلن ڈنکن نے سنہ 2014 میں اسرائیلی بستیوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے چوری قرار دیا تھا۔بی بی سی ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا یہ سب قبضہ، الحاق، لا قانونیت، لاپرواہی، ساز باز کا وہ مرکب ہے جو اسرائیل کے لیے باعثِ ندامت ہے۔سر ایلن اس وقت یمن اور اومان کے لیے خصوصی ایلچی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید بستیوں کی تعمیر کو روکنے کے لیے عالمی قانون کو حرکت میں لانا ہوگا۔ اسرائیلی سفارتخانے کے وزیر نے ایلن ڈنکن کے بارے میں بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناقابلِ قبول ہے۔

بیان کے مطابق یہ باتیں سفارتخانے کے جونئیر اہلکار نے کہی ہیں جو اسرائیل کا سفارتکار نہیں ہے اور بہت جلد ان کی سفارتخانے کی ملازمت بھی ختم ہونے والی ہے۔برطانوی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سفیر نے معافی مانگی ہے اور یہ واضح ہے کہ یہ سفارتخانے اور اسرائیلی حکومت کے موقف کی عکاسی نہیں کرتا۔برطانیہ کے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…