پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ایران کا رواں سال میں دوسری بار ’’ بھاری پانی ‘‘ کی مقررہ حد سے تجاوز ۔۔ بھاری پانی کہاں استعمال کیا جاتا ہے ؟ عالمی ادارے کا دھماکہ خیز انکشاف

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

نیویارک (آئی این پی)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی ( آئی اے ای اے)نے کہا ہے کہ ایران نے رواں سال دوسری باربھاری پانی کی مقررہ حد سے تجاوزکیا ہے ، اس حد پر چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے پر معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق ریپبلکن جماعت کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی انتخاب جیتنے کے ایک دن بعد جاری ہونے والی رپورٹ میں جوہری توانائی کی بین الاقوامی تنظیم (آئی اے ای اے) نے کہا کہ جنوری کو جوہری معاہدے طے پانے کے بعد تہران نے ایک بار پھر بھاری پانی کی 130 میٹرک ٹن کی حد کو پار کیا ہے۔بھاری پانی ان ری ایکٹروں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو ایک قابل ذکر مقدار میں پلوٹونیم پیدا کر سکتے ہیں جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار نہایت اہم مواد ہوتا ہے۔جوہری توانائی کے نگران عالمی ادارے نے کہا کہ تہران نے اس مواد کی 130.1 ٹن مقدار کو مبینہ طور پر اسٹاک کیا ہے جو ایران کے اراک جیسی مکمل نا ہونے والی (جوہری) تنصیبات میں استعمال کیا جاتا ہے۔امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران زائد بھاری پانی کو برآمد کرنے کے لیے اقدام کر رہا ہے۔ٹونر نے کہا کہ یہ بات مد نظر رکھنی ضروری ہے کہ ایران نے اس کو چھپانے کی نا تو کوشش کی ہے، اور نا ہی آئی اے ای اے سے چھپانے کی کوشش کی ہے جو کچھ یہ کر رہا ہے۔ جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جوہری توانائی کے نگران ادارے نے منگل کو اس زائد مواد کی تصدیق آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا امانو کی طرف سے ایران کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ اس بارے میں “تحفظات کے اظہار” کے ایک ہفتے بعد کی ہے۔جب ایران نے فروری میں بھاری پانی کی 130.9 میٹرک ٹن کی حد پار کی تو عالمی طاقتوں امریکہ، چین، روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی طرف سے زیادہ تنقید نہیں کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…