جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

ترکی کیخلاف جرمن پارلیمان میں قرار داد منظور، دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ

datetime 2  جون‬‮  2016 |

برلن/انقرہ(آئی این پی)جرمنی کی پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران عثمانی ترکوں کے ہاتھوں آرمینی باشندوں کا قتلِ عام نسل کشی تھی دوسری جانب ترکی نے جرمنی کے ایوانِ زیریں کی اس قرارداد کی سخت مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔آرمینیا کا دعویٰ ہے کہ 1915 میں 15 لاکھ آرمینی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بہت کم تھی اور اسے نسل کشی نہیں قرار دیا جا سکتا۔فرانس اور روس سمیت 20 سے زیادہ ممالک 1915 میں ہونے والی ان ہلاکتوں کو نسل کشی مانتے ہیں۔ترکی اس بات کی تردید کرتا ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران آرمینی باشندوں کی ہلاکتیں کسی منظم سازش کا حصہ تھیں۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے وقت ترک باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے۔جرمن چانسلر انجیلامیرکل اس رائے شماری کے دوران پارلیمان میں موجود نہیں تھیں لیکن ان کی جماعت کرسچیئن ڈیمو کریٹس سمیت تمام جماعتوں نے اس قرارداد کی حمایت کی۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے جرمن چانسلر کو فون کر کے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ قرارداد منظور ہوئی تو دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوں گے۔قرارداد میں لفظ ’نسل کشی‘ استعمال کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جرمنی، جو اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا اتحادی تھا، اس کے لیے کچھ حد تک خود کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے کہ وہ اس نسل کسی کو روکنے کے لیے کچھ نہ کر سکا۔اس قرارداد کا وقت درست نہیں ہے کیونکہ یورپی یونین کو پناہ گزینوں سے نمٹنے میں ترکی کی مدد کی ضرورت ہے۔مارچ میں ہونے والے معاہدے کے مطابق ترکی یونانی جزیروں پر آنے والے شامیوں سمیت تمام پناہ گزینوں کو واپس لے گا جس کے بدلے میں یورپی یونین کی جانب سے ترکی کو مالی امداد اور یورپ کے زیادہ تر ممالک میں بغیر ویزا سفر کی اجازت ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…