جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

روں سال صرف 65پاکستانیوں کو سیاسی پناہ دی گئی، بڑے ملک نے مسترد شدہ لوگوں کے بارے بھی بتا دیا

datetime 21  اپریل‬‮  2016 |

برلن(نیوزڈیسک)جرمنی کے وفاقی دفتربرائے مہاجرین وتارکین وطن نے بتایا ہے کہ رواں سال 942 پاکستانیوں کو جرمنی میں پناہ دینے یا نہ دینے کے بارے میں سرکاری فیصلے کیے گئے جن میں صرف 65 پاکستانی جرمنی میں سیاسی پناہ کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ مجموعی طور پر 93 فیصد سے زائد پاکستانیوں شہریوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق جرمنی میں اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران قریب تین ہزار پاکستانی شہریوں نے سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں۔ جنوری سے مارچ تک کے اس عرصے میں قریب ساڑھے نو سو پاکستانیوں کی درخواستوں پر فیصلے بھی سنا دیے گئے۔جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرین و تارکین وطن (بی اے ایم ایف) کی جانب سے 2016 کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار جاری کر دیے گئے جن کے مطابق گزشتہ پورے سال کے مقابلے میں اس برس پہلے تین مہینوں کے دوران پاکستانی تارکین وطن کو جرمنی میں سیاسی پناہ دیے جانے کا تناسب 9.8 فیصد سے کم ہو کر قریب ساڑھے چھ فیصد رہ گیا ہے۔سال رواں کے پہلے تین ماہ کے دوران جرمنی میں مجموعی طور پر نئے آنے والے غیر ملکیوں میں سے ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد نے اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں۔ ان میں سے آدھے شامی باشندے تھے جب کہ دوسرے نصف میں سے 26 ہزار عراقی شہری تھے اور 20 ہزار افغان باشندے۔ باقی ماندہ 40 ہزار سے زائد درخواست دہندگان کا تعلق پاکستان، ایران اور اریٹریا سمیت کئی دوسرے ملکوں سے تھا۔بی اے ایم ایف کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق پہلی سہ ماہی میں قریب تین ہزار پاکستانی شہریوں نے اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں۔ ساتھ ہی یکم جنوری سے لے کر اکتیس مارچ تک کے اس عرصے میں 942 پاکستانیوں کو جرمنی میں پناہ دینے یا نہ دینے کے بارے میں سرکاری فیصلے بھی کر لیے گئے۔اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف 65 پاکستانی جرمنی میں سیاسی پناہ کے حق دار ٹھہرائے گئے۔ مجموعی طور پر 93 فیصد سے زائد پاکستانیوں شہریوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…