جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

مصری جزائر کی سعودی عرب کو فروخت کے دستاویزی ثبوت جاری

datetime 12  اپریل‬‮  2016 |

قاہرہ(نیوزڈیسک) مصری وزارت خارجہ نے دو جزیروں کی سعودی عرب کو فروخت کے تاریخی دستاویزی ثبوت جاری کر دیے ہیں۔ ان دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ جزیرہ ’’تیران‘‘ اور’’صنافیر‘‘ مذاکرات کے بعد سعودی عرب کے حوالے کیے گئے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ان دستاویزات میں مصر، سعودی عرب اور امریکا کے بھی کچھ تحریری ثبوت شامل ہیں جن میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جزیرہ تیران اور صنافیر سعودی عرب کی ملکیت میں دیے گئے ہیں۔قاہرہ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں مذکورہ جزیروں کی سعودی عرب کو حوالگی عالمی قوانین کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ تاریخی دستاویزات سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں جزیروں پر مملکت سعودی عرب ہی کا کنٹرول رہا ہے۔ سنہ 1950ء میں مصر نے ان جزیروں پر اسرائیلی جارحیت کی روک تھام کے لیے اپنا کنٹرول قائم کیا تھا۔ مصر کے کنٹرول کو سعودی عرب کی بھی حمایت حاصل تھی۔گوکہ 1950ء سے قبل بھی یہ دونوں جزیرے عملی طورپر سعودی عرب کی عمل داری میں نہیں تھے تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ یہ دونوں جزیرے سعودی عرب کی ملکیت نہیں ہیں۔تاریخی دستاویزات میں 1906ء میں مصر اور ترکی کی سرحدوں کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ سنہ 1950ء میں قاہرہ میں متعین امریکی سفیر نے امریکی وزیرخارجہ کو ایک برقی مراسلہ تحریر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جزیرہ صنافیر اور تیران پر مصری حکومت نے سعودی عرب کی منشا کے مطابق کنٹرول قائم کیا ہے۔اس کے علاوہ 14 دسمبر سنہ 1988ء اور 6 اگست سنہ 1989ء کو سعودی عرب کے وزیرخارجہ نے اپنے مصری ہم منصب کو ایک مکتوب ارسال کیا جس میں بحر متوسط اور بحر احمر کو باہم ملانے والے اہم مقامات کا تذکرہ تھا مگر اس میں بھی کہیں ان دونوں جزیروں کو مصر کی ملکیت ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ بعد ازاں 18 جنوری 1990ء کو سرکاری گزٹ میں بھی اس مراسلے کی تفصیلات شائع ہوئی تھیں۔مصری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ دستاویزی ریکارڈ میں تین مارچ سنہ 1990ء کو مصری وزیرخارجہ کی جانب سے سعودی ہم منصب کے جزیرہ تیران اور صنافیر کے بارے میں لکھے گئے دو جوابات کا تذکرہ ہے۔ انہی دستاویزات میں چار مارچ سنہ 1990ء کو مصری وزات خارجہ کی دستاویز اور 25 مارچ 2010ء کو اقوام متحدہ کی ایک دستاویز کی نقول بھی شائع کی گئی ہیں۔ ان دستاویزات میں بحر احمر، خلیج عقبہ اور خلیج عربی میں سعودی عرب کی سمندری حدود کے تعین کے ساتھ ساتھ جزیرہ صنافیر او تیران کو سعودی عرب کی عمل داری میں ظاہر کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…