بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

سعودی عرب میں تنصیبات کی سکیورٹی کے لیے خواتین بھرتی کرنے پرغور

datetime 24  فروری‬‮  2016 |

ریاض(نیوزڈیسک )سعودی عرب میں اہم تنصیبات اور بلڈنگ سیکیورٹی فورسز نے اہم تنصیبات بالخصوص پٹرولیم اور صنعتی اداروں کی حفاظت کے لیے خواتین کو بھرتی کرنے اور انہیں فوجی تربیت دینے کے بعد بہ طور محافظ تعینات کرنے پر غور شروع کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی بلڈنگ سیکیورٹی فورسزکی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فوج میں خواتین کا کردار مسلمہ ہے اور ان کی اسی اہمیت کے تناظر میں انہیں اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے تیار کرنے کا پروگرام زیرغور ہے۔ تلاشی اور چھان بین میں خواتین اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ خواتین سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں کمپنیوں کے دفاترمیں ممنوعہ اشیاء کو لے جانے اور قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ادھر سعودی عرب میں تنصیبات سیکیورٹی فورسز کے سربراہ میجر جنرل سعد بن حسن الجباری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ملک میں پہلے ہی کئی اداروں کی سیکیورٹی کے لیے خواتین کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ان میں تیل کمپنی ارامکو خاص طور پر شامل ہے جس کی سیکیورٹی کے عملے میں خواتین بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل مقصد دفاتر، کمپنیوں اور دوسرے اداروں میں ایسے ممنوعہ سامان کی ترسیل روکنا ہے اور خواتین مشکوک سامان کی بہتر چھان بین کر سکتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل سعد الجباری کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اور تلاشی کے لیے دنیا بھر میں جدید ترین الات بھی موجود ہیں۔ حال ہی میں ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف کو سیکیورٹی چیک پوسٹوں کے لیے تیار کردہ اسمارٹ کار کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ اسمارٹ کارکی مدد سے چیک پوسٹ کی طرف آنے والی کسی بھی گاڑی کے بارے میں تمام تفصیلات پہلے ہی مہیا کی جا سکی گی۔ اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے افراد کے بارے میں بھی اسمارٹ کار جان کاری مہیا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے آلات کی مدد سے چیک پوسٹوں کے نظام کو جدید کیا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے انسداد کے لیے بھی ایسے آلات کا استعمال زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…