سعودی عرب میں خطرناک ڈیزائن کی عمارت کی تعمیر، سوشل میڈیا صارفین سیخ پا

  جمعہ‬‮ 23 اکتوبر‬‮ 2020  |  18:11

ریاض (این این آئی )سعودی عرب کے جنوبی ریجن جازان کی ابو عریش کمشنری میں ایک عمارت کا عجیب و غریب ڈیزائن سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ابوعریش کے الربیع محلے میں زیر تعمیر انوکھی عمارت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سوالات کی بھرمار ہے۔ ہر کوئی سوال کر رہا ہے کہ آخر ایسے ڈیزائن کی عمارت کی منظوری کیوں دی گئی۔ابوعریش کی بلدیاتی کونسل نے البر فلاحی انجمن کی متنازع عمارت کی تعمیر کا کام بند کرا دیا ہے۔ بلدیاتی کونسل کا دعوی ہے کہ عمارت منظور شدہ ڈیزائن سے مختلف طریقے


سے تعمیر کی جا رہی تھی۔ خلاف ورزیوں کا مسئلہ طے ہونے تک تعمیر کا کام بند کرادیا گیا۔انجمن کے چیئرمین محمود الاقصم نے کہا کہ بلدیاتی کونسل نے ڈیزائن میں جس غلطی کا تذکرہ کیا ہے وہ معمولی سی ہے۔ مغربی جانب کا ایک حصہ زیادہ اٹھ گیا ہے اور اسے ٹھیک کردیا جائے گا۔الاقصم نے یہ بھی کہا کہ دراصل پلاٹ بہت چھوٹا تھا تاہم انجمن کے صدر دفتر سے قریب ہونے کے باعث بے حد اہم ہے۔ یہ عمارت تربیتی مرکز کے طور پر استعمال کی جائے گی۔ عمارت کی تعمیر کا کام بلدیاتی کونسل کی مطلوبہ منظوریوں کے بعد ہی شروع کیا گیا۔بلدیاتی کونسل کا کہنا تھا کہ عمارت کا ایک حصہ منظور شدہ ڈیزائن سے مطابقت نہیں رکھتا جبکہ عمارت کی بنیادوں کی بابت بھی اطمینان حاصل کیا جائے گا۔الاقصم نے کہا کہ انجمن کے پاس غیرمنقولہ جائدادیں جازان میں کسی بھی انجمن کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ جازان ڈیم روڈ پر فلیٹس ہیں یہ پوری کمشنری میں فلیٹس کا سب سے بڑا کمپلیکس ہے۔ وثیقہ نویسی کا دفتر بھی ہمارا ہی ہے۔ بلدیاتی کونسل کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کو جلد دور کردیا جائے گا۔


زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎