پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

بڑے ہسپتالوں کا رش کم کرنے کیلئے ٹیلی میڈیسن سسٹم کا باقاعدہ آغاز

datetime 6  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان میں بڑے ہسپتالوں کا رش کم کرنے کیلئے ٹیلی میڈیسن سسٹم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔وزارت صحت کے تعاون سے صحت کہانی کے زیر اہتمام پہلے ہیلتھ کیئر سینٹر کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے شرکت کی، جس میں انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن کے حوالے سے بہت بڑا دن ہے کیونکہ ہمارے نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں سیاسی جلسوں کی مانند ہجوم نظر آتا ہے، جس کی بنیادی وجہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر سسٹم کی عدم موجودگی ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ سسٹم کا مؤثر متبادل ٹیلی میڈیسن سسٹم ہے، جسے وفاقی بنیادی صحت مراکز میں شروع کر دیا گیا ہے۔

ٹیلی میڈیسن سسٹم شعبہ صحت میں ایک خاموش انقلاب ہے۔ اسلام آباد کے گوگینہ گاؤں میں ٹیلی میڈیسن پراجیکٹ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جہاں صحت کہانی ادارہ ڈیجیٹل صحت سہولیات فراہم کرے گا۔مصطفی کمال نے کہا کہ بڑے اسپتالوں میں آنے والے 70 فیصد مریضوں کو بنیادی صحت مراکز سے رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے 6 اور کراچی کے 4 مقامات پر ٹیلی میڈیسن سسٹم نصب کیا جا رہا ہے، جہاں مریضوں کو آن لائن کیمرے کے ذریعے بیک وقت 3 جنرل فزیشن دیکھیں گے جب کہ 6 مقامات پر مجموعی طور پر 18 ڈاکٹر آن لائن موجود ہوں گے۔وفاقی وزیر صحت کے مطابق ٹیلی میڈیسن سسٹم کے تحت مریضوں کو آن لائن دوا کی پرچی جاری کی جائے گی اور انہیں وہیں سے دوا فراہم کی جائے گی جس سے بڑے ہسپتالوں کا رش کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی ایک بڑی تعداد، خصوصاً خواتین ڈاکٹرز، اس وقت پریکٹس نہیں کرتیں، اب وہ گھر بیٹھے مریضوں کا علاج کر سکیں گی۔مصطفی کمال نے کہا کہ کچھ ماہ پہلے ہم نے یہ خواب دیکھا تھا اور آج یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج پہلے بی ایچ یو کا افتتاح کیا گیا ہے اور اس کے بعد ہر ہفتے ایک بی ایچ یو کا افتتاح کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز میں صبح سے شام 6 بجے تک مریضوں کا معائنہ کیا جائے گا اور وہ خود یہاں سرپرائز وزٹس بھی کرتے رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…