ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

وہ عام مشروب جس کا روزانہ استعمال جگر کے جان لیوا امراض سے بچا سکتا ہے

datetime 3  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اگر آپ کافی پینے کے شوقین ہیں تو یہ عادت آپ کے جگر کو خطرناک بیماریوں سے بچا سکتی ہے۔سائنسی جریدے Biochemical Pharmacology میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق، کافی کا استعمال نہ صرف جگر کو امراض سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ اگر جگر کسی بیماری کا شکار ہو تو اس کی حالت کو بہتر کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اس سے قبل بھی مختلف مطالعات میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ کافی پینے والوں میں جگر کے امراض کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔

تاہم حالیہ تحقیق میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ کافی میں موجود کون سے عناصر جگر کے لیے مفید کردار ادا کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے محققین نے سابقہ تحقیقی رپورٹس کا تفصیلی تجزیہ کیا۔تحقیق کے مطابق، روزانہ کم از کم دو کپ کافی پینے سے جگر کی کئی عام بیماریوں کا خطرہ نمایاں طور پر گھٹ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر جگر پر چربی جمع ہونے کی بیماری (فٹی لیور)، جو دنیا بھر میں عام ہے، اس سے متاثر ہونے کے امکانات کافی نوش کرنے والوں میں 29 فیصد تک کم دیکھے گئے۔مزید یہ کہ اگر کوئی شخص ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہو اور باقاعدگی سے کافی کا استعمال شروع کرے تو جگر کو پہنچنے والا نقصان آہستہ ہو جاتا ہے۔

ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ کافی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جگر کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، جبکہ اس کی سوزش کم کرنے والی خصوصیات بھی جگر کے لیے فائدہ مند ہیں۔کافی پینے سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے اور معدے میں موجود بیکٹیریا کا توازن بھی درست رہتا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر جسم اور جگر دونوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔تحقیق کے مطابق، جگر کی حفاظت کے لیے کافی کا استعمال ایک آسان اور مؤثر عادت بن سکتا ہے، اور جو لوگ پہلے ہی جگر کے امراض میں مبتلا ہیں ان کے لیے بھی یہ بیماری کی شدت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…