منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اگر سردیوں میں آپکے ہاتھ پھٹتے ہیں تو پریشان نہ ہوں ماہرین نے آسان طریقہ علاج بتا دیا

datetime 15  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ہاتھوں کا خشک ہوجانا یا جلد کا اترنا ایک عام مسئلہ ہے۔ ہاتھوں کی جلد کا اترنے کی بڑی وجہ پانی کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ وہ افراد جن کا دھوپ میں آنا جانا بہت ہوتا ہے ان کے بھی ہاتھوں کی جلد خشک اور زیادہ اترتی ہے۔اکثر ایسی جلد کا مسئلہ

سردیوں میں ہوتا ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کو یہ شکایت گرمیوں میں بھی ہوتی ہے، جس کے باعث وہ اپنے روزمرہ کے کام صحیح طور پر سرانجام نہیں دے پاتے۔درج ذیل ہاتھوں کی جلد کی حفاظت کےلیے چند ٹپس بیان کی جارہی ہیں۔ جن کے ذریعے آپ باآسانی اپنے ہاتھوں کو خوبصورت اور نرم وملائم بناسکتے ہیں۔ ٭ کیسٹر آئل، لیموں کا رس اور چینی کا مکسچر بناکر اپنی ہتھیلیوں پرلگائیں۔ اس مکسچر سے آپ کی ہتھیلیوں میں موجود ڈیڈ اسکن جھڑ جائے گی اور آپ کے ہاتھ نرم و ملائم ہوجائیں گے۔ ٭ اپنے ہاتھوں پر مکھن سے مساج کرنے سے بھی آپ کی جلد نرم ہوجائے گی اور جلد کا پھٹنا ختم ہوجائے گا۔ ٭ ایک پیالے میں 2 کھانے کے چمچ لیموں کا رس ، 1 کھانے کا چمچ گلیسرین اور ایک کپ ابلا ہوا دودھ لیں اور اچھی طرح مکس کرنے بعد آدھے گھنٹے تک اپنے ہاتھوں پر مساج کرتے رہیں۔ اس ٹریٹمنٹ کو روزانہ جاری رکھیں۔ ٭ ٹماٹر بھی جلد کی حفاظت کے لیے بے حد مفید ہے۔ ایک پیالے میں ہم وزن ٹماٹر کا جوس، گلیسرین اور

لیموں کا جوس لے لیں اور تمام اجزاء کو اچھی طرح مکس کرلیں۔ اب اس مکسچر کا ہاتھوں پر اچھی طرح مساج کرلیں ۔اس سے آپ کے ہاتھ نرم و ملائم ہونے کے ساتھ گورے بھی ہوجائیں گے۔ ٭ بادام اور زیتون کا تیل ہم وزن لےکر اپنے ہاتھوں پرلگائیں اور 10 سے 15 منٹ بعد ہاتھوں کو نیم گرم پانی سے دھو لیں۔ زیتون کے تیل میں موجود وٹامن ای آپ کے ہاتھوں کوخشک ہونے سے محفوظ رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…