منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

فزیوتھراپی کو کن مریضوں کیلئے زبردست  قرار دیدیا گیا ؟ ماہرین نے خوشخبری سنادی

datetime 2  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)ماہرین صحت نے کہاہے کہ اگر نمونیہ کے مریضوں کو فزیو تھراپی اور آکیوپیشنل تھراپی سے گزارا جائے تو نہ صرف وہ تیزی سے ٹھیک ہوتے ہیں، ان کے اسپتالوں کے چکر کم ہوسکتے بلکہ ان کی موت کا خدشہ بھی کم ہوجاتا ہے۔نمونیہ پھیپھڑوں کی سوزش ہے جس کی شدید کیفیت جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ صرف امریکہ میں ہی یہ اموات کی ایک بڑی وجہ ہے

یہاں تک کہ کووڈ 19 سے پہلے بھی نمونیہ نے کئی ممالک میں پنجے گاڑھ رکھے تھے۔ ان میں سے عمررسیدہ افراد کی ایک تہائی تعداد سال میں بار بار اسپتال جاتی ہے اور ان کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے بچ رہنے والے مریض اتنے کمزور ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے معمول کے کام بھی نہیں کرسکتے ۔یونیورسٹی آف پِٹس برگ میں فزیکل تھراپی کی ماہر جینیٹ فریبرگر نے بتایا کہ نمونیہ کے مریضوں میں جیسے جیسے فزیوتھراپی بڑھائی جاتی ہے ویسے ویسے ان کے ہسپتال جانے اور اموات کے واقعات میں کمی ہوتی جاتی ہے۔ اس بات کا اعلان انہوں نے پٹس برگ اسکول آف ہیلتھ اینڈ ریہیبلیٹیشن سائنسس کے تحٹ 30 ہزار مریضوں کے مطالعے کے بعد کیا گیا ہے۔ ان تمام مریضوں کو نمونیہ یا انفلوئنزا کی شکایت تھی۔ڈاکٹر جینیٹ نے کہا کہ انہیں اس نتائج پر حیرت نہیں ہوئی ہے کیونکہ فزیوتھراپی ہسپتال سے دور رکھتی ہے اور اب ڈیٹا اور سروے سے بھی اس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اس سروے میں 18 یا اس سے زائد کے ہزاروں مریضوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کے ڈیٹا کا بغور مطالعہ کیا گیا۔فزیوتھراپی کی ایک اور ماہر ٹریسی ایولوتھ کہتی ہیں کہ اس سے مریضوں کے مسائل کو حل کرکے انہیں چلنے پھرنے میں آسانی فراہم کی جاتی ہے۔ نہ صرف نمونیہ کے مریض موت کے خدشے سے دور ہوجاتے ہیں بلکہ وہ بہتر سے بہتر ہوتے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ماہرین کا اصرار ہے کہ تمام ہسپتالوں میں نمونیہ کے مریضوں کو فزیوتھراپی فراہم کی جائے۔اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ بروقت اور درست فزیو تھراپی اور آکیوپیشنل تھراپی سے نمونیہ کے مریضوں کو جلد صحتیاب کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…