منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

فیس ماسک استعمال کرنے کے حیرت انگیز فوائد نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع تحقیق میں اہم انکشافات

datetime 1  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)طبی ماہرین نے کہاہے کہ فیس ماسک ایک خاص قسم کی ویکسین ہے، یہ کورونا وائرس کے ذرات کو فلٹر کرکے ان کی شرح انتہائی کم کر دیتا ہے، اگر ماسک پہننے والے شخص کے جسم میں یہ ذرات چلے بھی جائیں تو اس کی علامات سامنے نہیں آتیں۔

طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ نظریہ درست ثابت ہوا تو بڑے پیمانے پر کسی بھی قسم کے فیس ماسک کا استعمال بڑھے گا اور اس سے کورونا وائرس کے بغیر علامات والے کیسز کی شرح بڑھے گی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا یونیورسٹی کے محققین ڈاکٹر مونیکا گاندھی اور ڈاکٹر جارج رتھرفورڈ نے کہا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فیس ماسک ایک ویکسین کے طور پر کام کرتا ہے۔محققین کے مطابق حال ہی میں چوہوں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ وائرس کے زیادہ ذرات کے نتیجے میں کورونا وائرس کی سنگین شدت کا سامنا ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب چوہوں کو ماسک کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا تو ان میں بیماری کی علامات معتدل رہیں یا نمودار ہی نہیں ہوئیں۔اخلاقی وجوہات کی وجہ سے انسانوں پر اس طرح کے تجربے نہیں ہوتے مگر آبادیوں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس سے بھی ‘ماسک کے ویکسین ہونے کے خیال کو تقویت ملتی ہے۔

امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے بتایا تھا کہ جولائی کے وسط میں کورونا وائرس کے 40 فیصد کیسز بغیر علامات کے تھے مگر امریکا کے جن حصوں میں ماسک پہننے کا رجحان زیادہ ہے وہاں یہ شرح 80 فیصد تک پہنچ گئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ بحری جہازوں

میں کورونا وائرس کی وبا کے آغاز میں جب فیس ماسک کا استعمال عام نہیں تھا تو بغیر علامات والے کیسز کی شرح 20 فیصد تھی، مگر ارجنٹائن کے ایک جہاز میں جہاں فیس ماسک کا استعمال عام تھا، وہاں یہ شرح 81 فیصد ریکارڈ ہوئی۔اسی طرح امریکا کے فوڈ پراسیسنگ پلانٹس

میں جہاں فیس ماسک کا استعمال لازمی تھا، وہاں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے پر 95 فیصد کیسز میں علامات سامنے نہیں آئیں جبکہ باقی 5 فیصد میں بھی معمولی سے معتدل علامات دیکھی گئیں۔مگر دیگر طبی ماہرین نے انتباہ کیا کہ فیس ماسک کو محفوظ اور موثر ویکسین کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…