منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا کے جعلی کیسز کا ڈیٹا فراہم کرنے کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 19  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور (نیوز ڈیسک) لاہور میں کورونا کے جعلی کیسز کا ڈیٹا فراہم کرنے کا انکشاف سامنے آیا ہے، محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔اب تک ہونے والی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ لاہور کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کی طرف سے

کورونا ڈیش بورڈ پر جعلی ڈیٹا اپ لوڈ کیا گیا۔لاہور کے 8 ٹاؤنز کی ٹیموں کی طرف سے جعلی ڈیٹا اپ لوڈ کرنے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔ان ٹاؤنز میں راوی ٹاؤن،علامہ اقبال ٹاؤن،گلبرگ،عزیز بھٹی ٹاؤن، نشتر،شالامار اور واہگہ ٹاؤن شامل ہیں۔یہ جعلی ڈیٹا 23 اگست 2020 سے 31 اگست کے درمیان اپ لوڈ کیا گیا۔تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر عاقب نذیرکو انکوئری افسر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ سات دن کے اندر جعلی ڈیٹا اپ لوڈ کرنے والوں کا تعین کریں گے۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے فعال کیسز کی تعداد 6 ہزار 572 ہوگئی،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 645 نئے کیسز کی تشخیص ہوئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکے تازہ اعداد وشمارکے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 645 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک بھرمیں مجموعی کیسز کی تعداد 3 لاکھ 5 ہزار 031 ہوگئی۔این سی او سی کے مطابق فعال کیسز کی تعداد 6 ہزار 572 ہو گئی،اب تک کورونا وائرس میں مبتلا 2 لاکھ 92 ہزار 044 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 7 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 6 ہزار 415 ہوگئی۔سندھ میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 33 ہزار 362، پنجاب میں 98 ہزار 272 خیبرپختونخوا 37 ہزار 270، اسلام آباد میں 16 ہزار 086، بلوچستان میں 14 ہزار 138،

آزاد کشمیر 2 ہزار 491 اورگلگت بلتستان میں 3 ہزار 412 تعداد ہوگئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…