منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پروٹین، لحمیات، وٹامن بی کی کئی اقسام چاول کا چھلکا بھی غذائیت سے بھرپور

datetime 13  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی(یو این پی) چاول کا شمار دنیا میں کھائی جانے والی اہم ترین اجناس میں ہوتا ہے لیکن اس کا اہم انقلابی حصہ ہم بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں اور وہ ہے چاول کا چھلکا جو قدرتی طورپر بے پناہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ چاول کے چھلکے میں پروٹین، لحمیات (فیٹس)،

معدنیات اور خردغذائی اجزاء (مائیکرونیوٹرنٹس) اور وٹامن بی کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ چھلکا جانوروں کو کھلا دیا جاتا ہے یا پھر جلانے اور تعمیراتی کام میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے لیکن اب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں کو اسے ضرور استعمال کرنا چاہیئے۔ کولاراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسر ایلزبتھ ریان کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر صرف دن میں ایک مرتبہ چاول کا 28 گرام چھلکا کھا لیا جائے تو یہ کسی بالغ شخص کی روزانہ کی نصف توانائی پوری کر سکتا ہے جن میں نیاسِن، تھایامائن اور وٹامن بی 6 قابلِ ذکر ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ چاول کے چھلکے کو جانوروں کو کھلا دیا جاتا ہے۔ ماہرین نے چاول کے چھلکے میں چھپے اہم اجزا کا پتا لگانے کے لیے امریکا میں استعمال ہونے والی چاولوں کی تین اہم اقسام پر غور کیا، اور اس کے لئے ایک مشہور طریقے ماس اسپیکٹروسکوپی کی مدد سے معلوم کیا گیا کہ اس میں کتنے غذائی اجزا کے سالمات (مالیکیول) موجود ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس میں 453 اہم اجزا موجود ہیں جن میں سے 65 تو طبی اور صحت کے لیے بہترین خواص رکھتے ہیں اور 16 اس سے قبل چاول کے چھلکے میں دیکھے ہی نہیں گئے تھے۔ پروفیسر ایلزبتھ کہتی ہیں کہ چاول کے چھلکے میں طبی اور غذائی اجزا کی بھرمار ہے۔ مثلاً اس میں موجود اجزا بلڈ پریشر، سوزش اور جلن کے علاوہ جراثیم کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ چاول کا چھلکے میں 12 سے 15 فیصد پروٹین بھی ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…