منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کیلے رات کو ابال کر کھانے سے کیا ہوتا ہے بڑا ہی قیمتی نسخہ۔۔۔ضرور پڑھ لیں

datetime 7  ستمبر‬‮  2020 |

مسلسل بے خوابی کا شکار رہنے والے افراد نیند کیلئے خواب آور ادویات کا استعمال کرنے لگ جاتے ہیں جس کے سائیڈ ایفیکٹس کی وجہ سے وہ مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بے خوابی کی وجہ سے جسم خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے

لگتا ہے اور کمزوری بھی پیدا ہو جاتی ہےلیکن اب ماہرین صحت نے بے خوابی کا شکار افراد کیلئے ایسا گھریلو ٹوٹکا دریافت کر لیا ہے جس کے استعمال سے بے خوابی کا شکار افراد نہ صرف بھرپور اور مزیدار نیند کا لطف لے سکتے ہیں بلکہ اس کے استعمال سے وہ خواب آور ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس سے بھی نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ ماہرین صحت کاکہنا ہے کہ ایسی مشکل کے لئے کیلوں والی چائے کا استعمال کریں۔اس کے کوئی سائیڈ افیکٹس بھی نہیں اور اس کے استعمال سے آپ کوپرسکون نیند بھی آنے لگی گی۔کیلوں میں پوٹاشیم اور میگنیشیم کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے اور ان دونوں دھاتوں کی وجہ سے ہمیں پرسکون نیند آنے لگتی ہے۔ان کی وجہ سے ہمارے پٹھے بھی مضبوط ہوتے ہیں اور ان میں اکڑاؤ اور کھچاؤبھی نہیں ہوتا۔کیلے کی چائے کیلئے آپ کو دستیاب اجزاءدرج ذیل ہیں۔ ایک کپ چائے بنانے کیلئے ایک کیلا، ایک گلاس پانی، دو گرام دار چینی درکار ہو گی۔کیلے کو کاٹ کر پانی میں ڈالیں اور دس منٹ تک پانی کوابالیں،مشروب کو چھان لیں۔اب اس پردارچینی چھڑک دیں اور رات کوسونے سے ایک گھنٹہ پہلے کیلے والی چائے نوش فرمائیں۔اس مشروب کوروزانہ استعمال کرنے سے آپکو رات کوپرسکون نیند آئے گی۔

کیلے کے مقابلے میں ا س کے چھلکے میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ،اور پوٹاشیم بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ ان چھلکوں میں lutein بھی ہوتی ہے۔ یہ ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو آنکھوں کی صحت کے لیے لازمی تصور کی جاتی ہے۔ کیلے کے مقابلے میں اس کے چھلکے میں ایک امینو ایسڈ tryptophan بھی زیادہ ہوتا ہے۔ دیگر بہت سے فوائد کے ساتھ tryptophan کے استعمال سے ڈپریشن میں کمی ، موڈ بہتر بنانے میں دماغ کو مدد ملتی ہے۔ اگرچہ کیلے کے چھلکے کھانے میں کڑوے محسو س ہوتے ہیں مگر زیادہ پکے ہوئے کیلوں کا چھلکا کچھ میٹھاہوتا ہے اس لیے انہیں چبایا جاسکتا ہے۔ یہ مشکل لگے تو بنانا شیک بناتے وقت چھلکوں کو بھی جوسر میں ڈال دیں۔ چھلکوں کو چند منٹ پانی میں ابال کر یا فرائنگ پین پر ہلکا سا تل کر بھی کھایا جاسکتا ہے۔ اگر یہ بھی مناسب نہ لگے تو چھلکوں کو بیس منٹ تک یا جب تک وہ اچھی طرح خشک نہ ہوجائیں،اوون میں رکھیں۔پھر اس کی چائے بناکر پئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…