منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وبا خدماتِ صحت میں پیش رفت کومختصروقت  میں تہس نہس کرسکتی ہے،ڈبلیو ایچ اوکا انتباہ

datetime 1  ستمبر‬‮  2020 |

جنیوا(این این آئی)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہا ہے کہ دنیا کے 90 فی صد سے زیادہ ممالک میں کرونا وائرس کی وبا نے صحتِ عامہ کے نظام کو تہس نہس کردیا ہے اور گذشتہ عشروں کے دوران میں تحفظ صحت کے ضمن میں حاصل ہونے والی بڑی کامیابیاں مختصروقت میں مٹ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق جنیوا میں قائم ڈبلیو ایچ او نے

کرونا وائرس کے صحت عامہ کی خدمات پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے ملکوں کا ایک تفصیلی سروے کیا ہے اور گزشتہ روز اس کی رپورٹ جاری کی ۔اس کے مطابق کووِڈ19کی وبا کے صحت کی لازمی خدمات پر اثرات گہری تشویش کا ذریعہ ہیں۔گذشتہ دو عشروں کے دوران میں صحت کے شعبے میں حاصل ہونے والی بڑی کامیابیوں کا مختصر وقت میں ختم ہو سکتی ہیں۔اس سروے میں مئی سے جولائی تک 100 سے زیادہ ممالک کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا شامل کیا گیا ہے۔ان اعداد وشمار کے مطابق کرونا کی وبا سے سب سے زیادہ جو خدمات متاثر ہوئی ہیں، ان میں قطرے پلانے یا ٹیکے لگانے کی معمول کی خدمات 70 فی صد خاندانی منصوبہ بندی 68 فی صد، سرطان کی تشخیص اور علاج 55فی صدسرفہرست ہیں۔ان کے علاوہ سروے میں جواب دینے والے ایک چوتھائی ممالک میں ہنگامی خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے وضع کردہ مشرقی بحرمتوسط کا خطہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔اس میں افغانستان ، شام اور یمن جیسے ممالک شامل ہیں۔اس کے بعد افریقا اور جنوب مشرقی ایشیا کے خطے ہیں۔ براعظم امریکا میں واقع ممالک اس سروے میں شامل نہیں تھے۔برطانوی خبررساں ایجنسی کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق چین کے شہر ووہان سے دنیا کے دوسرے ملکوں میں گذشتہ سال دسمبر میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سے کم سے کم ساڑھے آٹھ لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ بعض جگہوں پر صحت کی خدمات تہس نہس ہونے کی وجہ سے کووِڈ کے علاوہ بھی دوسرے امراض سے اموات میں اضافہ ہوا ہے۔تاہم ان ہلاکتوں کی درست تعیین مشکل ہے اور اس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ڈبلیو ایچ او نے اس رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ صحت عامہ کی خدمات میں آنے والے بگاڑ اور خرابیوں کو اس وبا کے خاتمے کے بعد بھی محسوس کیا جائے گا کیونکہ حفظان صحت کی خدمات کی بحالی کے عمل میں ممالک کو وسائل کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…