منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دوپہر کو ایک گھنٹے سے زیادہ سونا جان لیوا چین میں ہونیوالی نئی طبی تحقیق میں اہم انکشافات

datetime 27  اگست‬‮  2020 |

بیجنگ(این این آئی)دوپہر کی نیند یا قیلولہ سنت نبوی ۖ بھی ہے اور صحت کے لیے فائدہ مند بھی، تاہم بہت زیادہ سونا جان لیوا بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ دعوی چین میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔گوانگزو یونیورسٹی کی تحقیق کو یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے سالانہ اجلاس کے دوران پیش کیا گیا اور فی الحال ابتدائی نتائج ہی جاری ہوئے ہیں۔

تاہم محققین نے عندیہ دیا کہ ایک گھنٹے سے زیادہ کا قیلولہ امراض قلب اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔اس تحقیق کے دوران قیلولے پر ہونے والی پرانی 20 تحقیقی رپورٹس کو دیکھا گیا جن میں 3 لاکھ سے زائد افراد شامل تھے اور 39 فیصد دوپہر کی نیند کے عادی تھے۔محققین نے کہا کہ اگر لوگ دوپہر کی نیند کو رات کے آرام کی جگہ دینے لگے تو قبل از وقت موت کا خطرہ 19 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔تاہم یہ خطرہ ان لوگوں میں بہت زیادہ ہوتا ہے جو 60 منٹ یا اس سے زائد وقت تک قیلولہ کرتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے افراد میں قبل از وقت موت کا خطرہ 30 فیصد جبکہ امراض قلب کا امکان 34 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ ماضی میں یہ سامنے آچکا ہے کہ دوپہر کی نیند کا طویل دورانیہ ورم، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کا باعث بن سکتا ہے تاہم اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ مختصر قیلولہ دماغی افعال کو بہتر اور بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق 30 سے 45 منٹ تک دوپہر کو سونا کسی فرد کی دل کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ مختصر دورانیے کا قیلولہ ایسے افراد کی دل کی صحت بہتر بنانتا ہے جو رات کو نیند پوری نہیں کرپاتے، جبکہ اس کے مقابلے میں دوپہر کو زیادہ دیر تک سونا ورم کو بڑھانے کے ساتھ رات کی نیند کو بھی متاثر کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…