منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

پمز ٹرانسپورٹ انچارج نے ہسپتال کی گاڑیاں اور ڈرائیورز وزیراعظم ہائوس ،سیکرٹری ہیلتھ اور ہسپتال کے اعلیٰ افسران کے ذاتی استعمال میں دیدیں، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 22  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ٹرانسپورٹ انچارج نے ہسپتال کی گاڑیاں اور ڈرائیورز وزیراعظم ہائوس، سیکرٹری ہیلتھ اور ہسپتال کے اعلیٰ افسران کے ذاتی استعمال میںدیتے ہوئے ہسپتال ایمرجنسیز سے نکلنے والے جنازوں اور مریضوں کو ٹیکسیوں اور پرائیویٹ ایمبولینس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ ہسپتال کے 5درجن سے زائد ڈرائیورز اعلیٰ افسران کی

گھریلو ڈیوٹیوں پر مامور کئے گئے ہیں ، 3ڈرائیورز وزیراعظم ہائوس جبکہ 2ڈرائیورز سیکرٹری ہیلتھ کے استعمال کیلئے بھیج دئیے گئے ۔ اعلیٰ افسران کی ذاتی ضروریات پوری کرنے کے عوض ٹرانسپورٹ سپرنٹنڈنٹ کی خلاف میرٹ تقرری پانے والے حشمت حسین نے عرصہ دراز سے اسسٹنٹ ہونے کے باوجود ادارے کے ٹرانسپورٹ سیکشن کا ایڈیشنل چارج سنبھال رکھا ہے۔ جہاں بیٹھ کر اعلیٰ افسران کو خوش کرنے کے عوض دیہاڑیاں لگائی جار ہی ہیں جبکہ ادارے کی ایمرجنسیز کا کوئی پرسان حال نہیں۔ نااہل ٹرانسپورٹ انچارج نے نصف درجن سے زائد سرکاری گاڑیاں عدم توجہ کے سبب کھٹارہ بنا کر رکھ دیں۔ جو اب نیلامی کیلئے گرائونڈ کر دی گئی ہیں۔ جبکہ ادارے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور سپرنٹنڈنٹ 24،24گھنٹے استعمال کیلئے سرکاری گاڑیاں گھروں کو لے جا چکے ہیں۔ آن لائن کی طرف سے موقف جاننے کیلئے رابطہ کرنے پر پمز ٹرانسپورٹ سیکشن کے انچارج حشمت حسین نے موقف اپنایا کہ وہ کسی کوفون پر جواب دینے کا پابند نہیں۔ پمز کی گاڑیاں اور ڈرائیورز کو افسرانہمیشہ سے استعمال کرتے آئے ہیںَ سیکرٹری آفس ڈیوٹی دینے والے دونوں ڈرائیورز کو واپس بلایا گیا ہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے موقف کیلئے رابطہ کرنے پر پیغام چھوڑا کہ وہ اس وقت موجود نہیں ہیں اور موقف دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ آن لائن کی طرف سے پمز کے دو ڈرائیور ذاتی استعمال میں لانے والے سیکرٹری ہیلتھ عامر اشرف خواجہ سے ان کے موبائیل نمبر 0332-4666456 پر متعدد بار رابطہ کیا گیا تاہم نہ تو ان کی طرف سے اپنا موبائیل فون اٹینڈ کیا گیا اور نہ ہی وزارت صحت کے ترجمان نے موبائیل فون اٹھانا گوارا نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…