منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری اور خریدو فروخت،لاکھوں روپے بٹورنے والا جعلی ڈاکٹر گرفتار،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 20  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن )ایف آئی اے کرائم سرکل نے ایف ٹین نجی ہسپتال کی کار پارکنگ میںگردہ کے غیر قانونی پیوند کاری اور خرید و فروخت میں انتہائی مطلوب جعلی ڈاکٹر کو لین دین کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ جعلی ڈاکٹر نے ایک نوجوان کے گردہ کی پیوند کاری کے عوض 26 لاکھ وصول کئے جو آپریشن کے چند دن بعد ہی نوجوان انتقال کر گیا ایف آئی اے نے چار روزہ ریمانڈ لیکر مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ریحانہ کنول نامی خاتون نے ڈائریکٹر ویجینس پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کو درخواست دی تھی کہ اسنے اپنے بیٹے حسن علی مرحوم کا گردہ ٹرانسپلانٹ کامران احمد عرف ڈاکٹر علی کے ذریعے ایجنٹ مظفر شہزاد سے 26 لاکھ روپے دیکر سٹی میڈیکل سینٹر سید پور روڈ پہ ڈاکٹر علی اور ڈاکٹر منظور سے کروایالیکن نا کافی آپریشن کے باعث ان کا بیٹا چند دن اور زندہ رہ سکا اور فوت ہو گیا اس درخواست پر متعلقہ محکمہ ایف آئی اے نے تحقیقات کی تو انکشاف ہوا کہ راولپنڈی کے چند ہسپتالوں میں گردہ کی پیوند کاری اور خرید و فروخت کا دھندہ جاری ہے جس پر ایف آئی اے نے دو ملازمین عثمان اور امجد کو بطور ڈونر جبکہ اشفاق اور صابر کو سب ایجنٹ بنا کر جعلی ڈاکٹر علی کے پاس بھیجا جو پیشہ کے لحاظ سے ٹیکنیشن بتایا جاتا ہے کے ساتھ گردہ کی ڈیل ہوئی جس پر جعلی ڈاکٹر نے انھیں میڈیکل کے لئے کہا اور اسکی رپورٹ بھی اپنے موبائیل پر واٹس اپ پر منگوا لی جب جعلی ڈاکٹر اور اسکے گروہ کے دھندہ اے متعلق بات پکی ہو گئی تو ایف آئی اے کے اعلی حکام نے اس گروہ کو رنگے ہاتھوں گرفتاری کے لئے ڈاکٹر علی کوایف ٹین نجی ہسپتال کی پارکنگ میں بلا کر اسے پچاس ہزار روپے گردہ کی پیوند کاری کے عوض دیئے جو اپنی گاڑی ہنڈا ویزل پر آیا تھا اور رنگے ہاتھوں پکڑ کر اسے گرفتار کر کے پرچہ درج کر لیا ہے ملزم کامران احمد عرف جعلی ڈاکٹر علی کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے اسکے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…