منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس کے پیچیدہ ترین معمے کو حل کرنے کی جانب پیشرفت امریکی سائنس دانوں کی تحقیق میں اہم انکشافات

datetime 5  اگست‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)سائنسدانوں نے نئے کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے ایک پیچیدہ ترین معمے سے پردہ اٹھانا شروع کردیا ہے کہ آخر کچھ لوگ کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار کیوں ہوجاتے ہیں جبکہ بیشتر بہت جلد صحتیاب ہوجاتے ہیں۔امریکی میڈیا نے بتایاکہ حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق مخصوص افراد میں یہ وائرس مدافعتی نظام کو حد سے زیادہ متحرک کردیتا ہے۔حملہ آور وائرس کے خلاف

جنگ میںدرست خلیات اور مالیکیولز کو متحرک کرنے میں ناکامی پر بیمار افراد کے جسم تمام ہتھیاروں کا استعمال شروع کردیتا ہے۔اور یہ حملہ صحت مند ٹشوز میں تباہی مچا دیتا ہے۔ایک حالیہ تحقیق میں شامل امریکا کی یالے یونیورسٹی کے محقق اکیکو آئیواسکی نے بتایا کہ ہم نے بیماری کے مختلف مراحل میں کچھ حیران کن چیزوں کو دیکھا۔کورونا وائرس کے حوالے سے مریضوں کے غیرمعمولی ردعمل پر کام کرنے والے محققین نے جان لیوا حد تک بیمار ہونے والے مریضوں میں وائرس کے ایسے اثرات کو دیکھا جو جلد صحتیاب ہونے والے مریضوں سے مختلف ہوتے ہیں۔اس حوالے سے امریکا کی پنسلوانیا یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق میں شامل جان وئیری نے بتایا کہ اس طرح کا بہت زیادہ ڈیٹا ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں بہت ابتدا سے ہی حرکت میں آجانا چاہیے، اس طرح ہم بیماری کے اثرات کو تبدیل کرسکتے ہیں۔اس سے ملتے جلتے نظام تنفس کی بیماریاں جیسے فلو وائرس جسم میں جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو مدافعتی نظام کی جانب سے دو نکاتی دفاع حرکت میں آتا ہے۔پہلے طریقے سے تیز رفتار جنگجوئوں کی طرح بیماری کے مقام پر حملہ کیا جاتا ہے اور حملہ آور وائرس کو قابو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے مدافعتی نظام کو زیادہ منظم حملہ کرنے کے لیے وقت مل جاتا ہے۔

ابتدائی ردعمل کا انحصار سگنل دینے والے مالیکیولز cytokines پر ہوتا ہے جو وائرس کے خلاف ردعمل کا ذمہ دار ہوتا ہے، جو ورم کو حرکت میں لاتا ہے۔بتدریج ان کی جگہ اینٹی باڈیز اور ٹی سیلز لے لیتے ہیں جو حملہ آور وائرس اور متاثرہ خلیات سے نمٹنے کے لیے خصوصی طور پر تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔مگر کورونا وائرس سے سنگین حد تک بیمار ہونے والے افراد میں مدافعتی نظام کا یہ طریقہ کار

بکھر جاتا ہے اور جینیاتی طور پر وائرس کو نکال باہر کرنے کی بجائے cytokines کی جانب سے کبھی نہ روکنے والے الارم کو چلادیا جاتا ہے۔آسان الفاظ میں ورم کا پھیلنا روکتا نہیں چاہے اس کی ضرورت ہی کیوں نہ ہو۔اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی محققق کیتھرین بلیش کے مطابق کسی وائرل انفیکشن کے دوران ورم ہونا معمول کا حصہ ہوتا ہے، مگر یہ اس وقت مسئلہ بن جاتا ہے جب آپ اسے روکنے میں

ناکام ہوجائیں۔گزشتہ ہفتے جریدے میں شائع ایک تحقیق میں ثابت کیا گیا کہ کووڈ 19 سے سنگین حد تک بیمار ہونے والے افراد میں مدافعتی نظام کے سگنلز ایسے اہداف پر حملہ آور ہوتے ہیں جو وائرسز نہیں ہوتے۔محققین کے مطابق مدافعتی نظام کے ردعمل کو 3 اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔پہلی قسم وہ ہے جو وائرسز اور مخصوص بیکٹریا کی خلیات میں مداخلت کے خلاف متحرک ہوتا ہے،

دوسری قسم پیراسائٹس پر حملہ آور ہوتی ہے جو خلیات کو متاثر نہیں کرتے، جبکہ تیسری قسم خلیات کے باہر فنگلی اور بیکٹریا سے نمٹتی ہے۔ہر قسم کی جانب سے مختلف cytokines اس مقصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں،کووڈ 19 سے معتدل حد تک بیمار ہونے والے افراد میں مدافعتی نظام کی پہلی قسم کا ردعمل سب سے زیادہ مناسب ہوتا ہے جبکہ زیادہ بیماری کا سامنا کرنے والے افراد دوسری

اور تیسری اقسام کے ردعمل یا وسائل بھی غیرمعمولی تعداد میں متحرک ہوجاتے ہیں، جو تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ بالکل ایسا ہے جیسے مدافعتی نظام درست راستے کی شناخت میں جدوجہد کا سامنا کررہا ہو۔یہ جدوجہد بی اور ٹی سیلز کے افعال کو بھی متاثر کرتی ہے، یہ مدافعتی نظام کے 2 ایسے جنگجو ہیں جن کو اپنے حملے کے لیے ایک

دوسرے سے رابطے میں رہنا ہوتا ہے۔دوسری جانب اسٹرائیڈز جیسے ڈیکسامیتھاسون cytokines کی سرگرمیوں کی روک تھام میں کسی بڑے ہتھوڑے جیسے ثابت ہوئے ہیں اور ابتدائی کلینکل ٹرائلز سے عندیہ ملتا ہے کہ ڈیکسامیتھاسون کورونا وائرس کے سنگین کیسز میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، جبکہ دیگر پر کام جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…