منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

کووڈ19 سے شہریوں پر بدترین اثرات افریقہ میں 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو غذائی قلت کا سامنا

datetime 29  جولائی  2020 |

دبئی (این این آئی)مغربی افریقہ کے 13 ممالک میں خشک سالی کے باعث تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو غذائی قلت کا سامنا ہے۔عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ساؤدرن افریقن ڈیولپمنٹ کمیونٹی (ایس اے ڈی سی) نے کہا کہ غذائی قلت کے شکار افراد میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ معمول کے موسم کے باعث اثرات پڑے ہیں، معاشی دباؤ اور غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے

جبکہ کووڈ-19 سے شہریوں پر بدترین اثرات پڑے ہیں۔کورونا وائرس کے باعث عائد کردہ پابندیوں سے کاروباری سرگرمیاں، روزگار اور سرمایے کے حصول میں خطرناک حد اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ایس اے ڈی سی کا کہنا تھا کہ اس سے خاص کر شہری علاقوں میں زیادہ اثرات پڑے ہیں جہاں لوگ مقامی مارکیٹ اور اس سے منسلک شعبوں پر انحصار کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے کہ غذائی قلت کے شکار افراد میں مزید اضافہ ہوگا۔افریقی تنظیم نے کہا کہ 2020 میں پورے خطے میں تقریباً 84 لاکھ بچے بھی غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ ان میں سے 23 لاکھ بچوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور انہیں مکمل علاج کی ضرورت ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسکول مارچ میں بند کردیے گئے تھے، جس کے باعث وہ بچے بھی متاثر ہوئے ہیں جو اسکول میں ملنے والی بچوں کی غذا پر گزارا کرتے تھے۔خیال رہے کہ ایس اے ڈی سی اراکین میں سے جنوبی افریقہ، کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔جنوبی افریقہ میں اب تک کم از کم 4 لاکھ 50 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 7 ہزار اموات ہوچکی ہیں۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ نے 2018 میں کہا تھا کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے غذائی قلت کے شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے جو ترقی پذیر ممالک میں فصلوں کی پیداوار پر اثر انداز ہو رہا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غذائی قلت میں گزشتہ 3 سال سے اضافہ ہو رہا ہے، جو ایک دہائی قبل کی سطح پر واپس جا پہنچا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’غذائی قلت میں کمی کا منفی سمت میں بڑھنا واضح تنبیہ ہے کہ 2030 تک دنیا میں غذائی قلت ختم کرنے کے مقاصد پورے کرنے کے لیے اس مسئلے کا فوری حل تلاش کرنا ضروری ہے۔اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ جنوبی امریکا اور افریقہ میں غذائی قلت سے متعلق حالات بدترین ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بچوں کی نشوونما کی کمی کو روکنے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات میں بہت کم بہتری آئی، 2017 میں 5 سال سے کم عمر 15 کروڑ 10 لاکھ بچوں کی نشوونما غذائیت کی کمی کے باعث اپنی عمر سے بہت کم تھی جبکہ 2012 میں یہ تعداد 16 کروڑ 5 لاکھ تھی۔عالمی سطح پر افریقہ میں 39 اور ایشیا میں 55 فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…