ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

ہر 4 میں سے ایک نوجوان میں کووڈ 19 کی علامات کئی ہفتوں تک برقرار رہنے کا انکشاف

datetime 26  جولائی  2020 |

نیویارک (این این آئی)ہر 4 میں سے ایک نوجوان میں کووڈ 19 کی علامات کئی ہفتوں تک برقرار رہنے کا انکشاف ہوا ہے ۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔امریکا کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق کووڈ 19 سے متاثر ایک چوتھائی نوجوان کی معمول کی صحت بھی ہفتوں تک بحال نہیں ہوپاتی۔

چاہے انہیں کسی قسم کی بیماری نہ ہو یا ہسپتال جانے کی ضرورت نہ پڑی ہو۔نتائج میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 سے صحتیابی کا عمل طویل ہوسکتا ہے وہ بھی ایسے نوجوانوں میں جو پہلے سے کسی بیماری کے شکار نہ ہوں، جس کے باعث انہیں دفتر، تدریس یا دیگر سرگرمیوں سے طویل دوری اختیار کرنا پڑسکتی ہے۔اگرچہ بیشتر تحقیقی رپورٹس میں ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں پر زیادہ توجہ دی گئی ہے مگر محققین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے مریض جن میں بیماری کی شدت معمولی اور ہسپتال جانے کی ضرورت نہ ہو، انہیں بیماری سے پہلے جیسی صحت بحال کرنے کے لیے کافی وقت لگ سکتا ہے۔ تحقیق میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے 300 نوجوانوں کو شامل کیا گیا جن میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوچکی تھی، مگر ٹیسٹ کے بعد ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ تحقیق میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کو کووڈ 19 کی کم از کم ایک علامت کا تجربہ ٹیسٹ کے وقت ہوچکا تھا،ان افراد کا انٹرویو ٹیسٹ کے 2 یا 3 ہفتے بعد ہوا اور دیکھا گیا کہ ان کی حالت کیسی ہے۔مجموعی طور پر تحقیق میں شامل دوتہائی افراد نے بتایا کہ ان کی معمول کی صحت ٹیسٹ کے ایک ہفتے بعد بحال ہوگئی تھی مگر 35 فیصد کا کہنا تھا کہ 14 سے 21 دن بعد بھی ان کی صحت پہلے کی طرح بحال نہیں ہوسکی تھی۔18 سے 34 سال کے ان ہر 4 میں سے ایک فرد 2 سے 3 ہفتوں بعد بھی صحتیابی کے عمل سے گزر رہا تھا۔

یہ نمبر 35 سے 49 سال کے افراد میں ہر 3 میں سے ایک جبکہ 50 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں لگ بھگ ہر 2 میں سے ایک تھا،یہاں تک ایسے صحت مند نوجوان جو پہلے سے کسی بیماری کے شکار نہیں تھے، ان میں بھی ہر 5 میں سے ایک کی علامات 2 یا 3 ہفتے بعد موجود تھیں،مجموعی طور پر ایسے افراد جو کئی ہفتوں بعد بھی کووڈ 19 سے لڑ رہے ہوتے ہیں ان میں جن علامات کی موجودگی کا امکان زیادہ ہوتا ہے وہ کھانسی اور تھکاوٹ ہے۔نتائج سے معلوم ہوا کہ کووڈ 19 فلو کی طرح نہیں جس کے 90 فیصد مریض 2 ہفتے کے اندر ٹھیک ہوجاتے ہیں۔محققین نے کہا کہ احتیاطی اقدامات جیسے سماجی دوری، اکثر ہاتھ دھونا اور گھر سے باہر فیس ماسک کے استعمال کی سختی سے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کو سست کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…