منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی اعلیٰ حکام کے الزامات پر ڈبلیو ایچ او کے صبر کا پیمانہ لبریز ، بڑا اعلان کر دیا

datetime 24  جولائی  2020 |

نیویارک (این این آئی)عالمی ادارہ صحت نے  امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے اس بیان کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے الزام عاید کیا تھا کہ ڈبلیو ایچ اول کے سربراہ کوٹیڈروس اڈھانم کو چین نے خرید لیا ہے۔ عالمی ادارے نے پومپیو کے ان الفاظ کو غلط اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔عرب ٹی وی ڈبلیو ایچ او نے پومپیو کے میڈیا کو جاری بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ

امریکی وزیر خارجہ کو بے بنیاد الزام تراشی کے بجائے کووڈ ۔ 19 وبا کی ویکسین کی تیاری پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ عالمی ادارے نے جوابی بیان میں کہا ہے کہ کرونا کی وبا نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اور اس میں ڈبلیو ایچ او یا اس کا کوئی عہدیدار قصور وار نہیں ہے۔ اس وقت پوری دنیا اس مصیبت سے دوچار ہے۔ ایسے میں اس سے نجات کے لیے ویکسین کی تیاری پر توجہ دینے کے بجائے الزام تراشی میں وقت برباد کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔خیال رہے کہ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مائیک پومپیو نے برطانوی نمائندوں کے ساتھ بند کمرہ ملاقات سے قبل کہا تھا کہ ان کا دعوی “مضبوط انٹلیجنس بنیاد” پر مبنی ہے ، لیکن انہوں نے کوئی دوسری تفصیلات کا تذکرہ نہیں کیا۔ذرائع نیامریکی وزیرخارجہ وزیر کے حوالے سے بتایا کہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ یہ ایک مضبوط انٹلیجنس معلومات پر مبنی ہے۔ چین اور عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ گویا چین نے پہلے ہی ٹیڈروس کو خرید لیا تھا۔واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت اور امریکا کے درمیان کشیدگی نئی بات نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار عالمی ادارہ صحت پر کرونا وائرس کے حوالے سے چین کے ساتھ ساز باز کرنے کا الزام عای کر چکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے بروقت کرونا وائرس کے بارے میں کوئی الرٹ جاری نہیں کیا اور چین کی اندھی تقلید کی جاتی رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…