منگل‬‮ ، 05 مئی‬‮‬‮ 2026 

چند منٹوں میں کووڈ 19 کی تشخیص  کرنے والا بلڈ ٹیسٹ تیار

datetime 20  جولائی  2020 |

کینبرا (این این آئی )آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے دعوی کیا ہے کہ وہ خون کے نمونوں سے صرف 20 منٹ میں کورونا وائرس کے مثبت ہونے کی تصدیق کرنے کے قابل ہوگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق موناش یونیورسٹی کے ماہرین نے یہ بلڈ ٹیسٹ تیار کیا اور انہیں توقع ہے کہ اس دریافت سے عالمی سطح مقامی طور پر کووڈ 19 کے پھیلا کو محدود کرنے میں مدد مل سکے گی۔ان کا کہنا تھا کہ

وہ خون کے نمونوں سے 20 مائیکرو لیٹرز پلازما سے کووڈ 19 کے حالیہ کیسز کی تشخیص کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔اس تحقیق میں بایو پیرا اور مونا یونیورسٹی کے کیمیکل انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین نے اکٹھے کام کیا اور ایک ایسا سادہ خون کا ٹیسٹ تیار کیا جو خون میں کورونا وائرس کی بیماری کے ردعمل میں بننے والی اینٹی باڈیز کی موجودگی کی شناخت کرسکتا ہے۔محققین نے بتایا تھا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں جسم میں خون کے سرخ خلیات کا ایک اجتماع بن جاتا ہے جو کہ برہنہ آنکھ سے بھی دیکھا جاسکتا ہے جبکہ محققین 20 منٹ میں مثبت یا نیگیٹو نتیجہ بتاسکتے ہیں۔اس وقت پی سی آر ٹیسٹ کے ذریعے لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص کی جاتی ہے مگر آسٹریلین محققین کا کہنا تھا کہ خون کے ٹیسٹ سے یہ بھی تعین کیا جاسکے گا کہ کوئی حال ہی میں کووڈ 19 کا شکار رہ کر صحتیاب ہوچکا ہے اور ممکنہ طور پر کلینیکل ٹرائلز میں ویکسینیشن کے عمل سے گزرنے والے افراد میں اینٹی باڈیز کی سطح کو جانچنے کے لیے بھی استعمال ہوسکے گا۔محققین کا کہنا تھا کہ ایک سادہ لیبارٹری سیٹ اپ کے ذریعے دنیا بھر میں طبی عملے کے افراد ایک گھنٹے میں 200 خون کے نمونوں کا ٹیسٹ کرسکیں گے، جبکہ جدید ترین آلات سے لیس ہسپتالوں میں ہر گھنٹے 700 سے زائد خون کے نمونوں کی تشخیص ہوسکے گی، جو دن بھر میں لگ بھگ 17 ہزار بن سکتی ہے۔اس تحقیقی کام کے نتائج جریدے جرنل اے سی ایس سینسرز میں شائع ہوئے اور نتائج سے کورونا وائرس کے

زیادہ خطرے کا سامنا کرنے والے ممالک کو آبادی کی اسکریننگ، کیسز کی تشخیص، اور کلینیکل ٹرائلز کے دوران ویکسین کی افادیت کے بارے میں جاننے میں مدد مل سکے گی۔محققین کا کہنا تھا کہ نتائج دنیا بھر کی حکومتوں اور طبی ٹیموں کو پرجو کردینے والے ہیں جو کووڈ 19 کے پھیلا کو روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مشق سے اینٹی باڈیز ٹیسٹنگ کی شرح بڑھانے کے

مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں۔تحقیق کے دوران لوگوں کے پلازما یا خون کے سرخ خلیات کے سیرم کو دیکھا گیا تھا اور مختلف تجربات کے ذریعے کامیابی حاصل کی گئی۔محقققین کا کہنا تھا کہ اس سادہ، فوری اور آسان طریقہ کار سے کورونا وائرس کے اینٹی باڈیز ٹیسٹنگ کے لیے بہترین ہے جبکہ یہ کووڈ 19 کی وبا کے بعد بھی ایک کارآمد ٹول ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…