منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بارش کے بعد جلدی امراض میں اضافے کا خدشہ، ماہرین امراض جلد کے مفید مشورے

datetime 19  جولائی  2020 |

کراچی(این این آئی)ماہرین امراض جلد نے شہر میں بارش کے بعد جلدی امراض میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ صفائی کا خاص خیال رکھیں، صاف پانی زیادہ پئیں، صاف کپڑے پہنیں، دن میں ایک سے دو بار غسل کریں اور خود کو گرمی سے دور رکھیں تاکہ ان امراض سے محفوظ رہ سکیں۔ معروف ماہرامراض جلد ڈاکٹر عماد کرمانی نے بتایا کہ بارشوں کے بعد جلدی امراض کے مریضوں کی

تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے اور زیادہ تر وہ مریض آتے ہیں جنہیں فنگس اور بیکٹیریل انفیکشن ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بارش سے قبل شدید گرمی کے باعث شہریوں کو گرمی دانے ہو رہے ہیں، جس میں اضافے سے انفیکشن ہو جاتاہے اور انفیکشن میں اضافے سے پھوڑیاں نکل آتی ہیں۔ماہر امراض جلد نے کہا کہ بارش اور ہیومیڈٹی سے فنگس کا مرض بھی بڑھ جاتا ہے، جو ایک سے دوسرے کو منتقل ہوتاہے اور اس کا علاج 6 ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔انہوں نے بتایاکہ شہری صرف ایک ہفتے کی دوا لے کر چلے جاتے اور مکمل علاج نہیں کراتے، جس سے یہ مرض ان کے گھر کے دیگر افراد کو بھی لگ جاتا ہے۔ڈاکٹر عماد کرمانی نے کہا کہ یہ جلدی امراض قابل علاج ہیں اور مرہم اور ادویات کے استعمال سے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں، صاف کپڑے پہنیں، دن میں ایک سے دوبار نہائیں، صاف پانی زیادہ سے زیادہ پئیں۔ماہر امراض جلد نے کہا کہ ڈی ہائیڈریشن اور زہر خورانی سے بچنے کے لئے ہاتھ کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئیں، ڈائیریا اور ٹائیفائیڈ سے بچنے کیلئے پھل اور سبزیاں دھو کر استعمال کریں، غیرمعیاری اور بازاری کھانوں سے پرہیز کریں۔شہری اینٹی بیکٹیریل صابن استعمال کریں اور گرمی میں کام سے احتراز کریں۔ ماہرین امراض جلد نے شہر میں بارش کے بعد جلدی امراض میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ صفائی کا خاص خیال رکھیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…