منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

کورونا وائرس سے صحت یاب کچھ افراد کو کئی ماہ تک کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تحقیق میں انکشاف

datetime 12  جولائی  2020 |

واشنگٹن (آن لائن )نئے کورونا وائرس کے نتیجے میں ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریض صحتیابی کے کئی ماہ بعد بھی مختلف مسائل کا سامنا کرسکتے ہیں۔یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ اس تحقیق میں ایسے افراد کو دیکھا گیا تھا جو کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے نتیجے میں ہسپتال میں زیرعلاج رہے، جن میں سے ہر 5 میں سے 4 افراد نے کئی ہفتوں بلکہ 2 ماہ بعد بھی مختلف علامات کو رپورٹ کیا۔

طبی جریدے جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع تحقیق میں اٹلی میں کووڈ 19 کے نتیجے میں ہسپتال میں داخل ہونے والے 143 افراد کا جائزہ لیا جو صحتیاب ہوگئے تھے۔اوسطاً مریضوں کا جائزہ کووڈ 19 کی پہلی علامت سامنے آنے کے بعد 2 ماہ بعد لیا گیا تھا، جس سے قبل وہ 2 ہفتے ہسپتال میں رہ کر صحتیاب ہوئے تھے۔اس میں 28 مریض ایسے تھے جن کو وینٹی لیٹر کی ضرورت محسوس ہوئی تھی اور وائرس کے نیگیٹو ٹیسٹ کے بعد انہیں ہسپتال سے فارغ کیا گیا تھا۔جب ان کا دوبارہ معائنہ کیا گیا تو کسی بھی مریض نے بخار یا کووڈ 19 کی کسی علامت کو رپورٹ نہیں کیا تھا مگر 50 فیصد نے تھکاوٹ جبکہ 43 فیصد نے سانس لینے میں مشکلات کو رپورٹ کیا۔ایک تہائی افراد نے جوڑوں میں تکلیف اور 22 فیصد نے سینے میں تکلیف کی شکایت کی۔صرف 13 فیصد مریض کووڈ 19 سے متعلق کسی علامت کا ذکر 2 ماہ بعد بھی نہیں کیا۔اس کے مقابلے میں 50 فیصد نے 2 یا 3 علامات کو رپورٹ کیا۔ تحقیق کے دوران لوگوں سے معیار زندگی سے متعلق سوالات بھی پوچھے گئے اور 44 فیصد نے کہاکہ بیماری کے بعد زندگی کا معیار پہلے کے مقابلے میں بدتر ہوگیا ہے۔کووڈ 19 کو اکثر افراد ایسا مرض سمجھتے ہیں جس کے سنگین اثرات ان کے خیال میں معمر افراد کو ہی متاثر کرتے ہیں مگر اس تحقیق میں شامل افراد کی عمریں 19 سے 84 سال کے درمیان تھیں۔اس تحقیق میں ایسے افراد کو ہی شامل کیا گیا تھا جو

ہسپتال میں زیرعلاج رہے تھے تو اس کے نتائج ممکنہ طور پر ایسے افراد کی عکاسی نہیں کرتے، جن میں اس بیماری کی شدت معمولی یا معتدل رہی اور ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں تھی۔مزید براں تحقیق میں شامل بیشتر مریضوں کو نمونیا کی علامات کا سامنا بھی ہوا تھا اور عام حالات میں بھی شدید نمونیا کے شکار افراد کو کئی ماہ تک مختلف علامات کا سامنا ہوتا ہے، چاہے وہ کورونا وائرس کا شکار نہ بھی ہوئے ہوں۔مگر تحقیق کے نتائج سے ان شواہد میں اضافہ ہوا جن کے مطابق کووڈ 19 کے کچھ مریضوں کو صحتیابی کے بعد بھی طویل المعیاد بنیادوں پر مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے، چاہے وائرس کے ٹیسٹ منفی ہی کیوں نہ ہوں۔متعدد طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کووڈ 19 کو شکست دینے والے کچھ افراد کو طویل عرصے تک کسی قسم کی معذوری کا سامنا بھی ہوسکتا ہے اور اس حوالے سے اس وائرس سے معمولی اور بہت زیادہ متاثر افراد پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…