منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی ادارہ صحت نے ہائیڈروآکسی کلوروکوئن کا ٹیسٹ ٹرائل بند کر دیا تجربات  کے نتائج دنیا کے سامنے رکھ دئیے

datetime 5  جولائی  2020 |

جنیوا (این این آئی )عالمی ادارہ صحت نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ملیریا کی دوائی ہائیڈروآکسی کلوروکوئن اور ایچ آئی وی کی دوا لوپیناویر/رٹوناویر کا اسپتالوں میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے ٹرائل ٹیسٹ بند کیا جا رہا ہے، چونکہ ان کے استعمال سے اموات میں کسی قسم کی

کمی واقع نہیں ہوئی۔یہ ناکامی ایسے میں سامنے آئی ہے جب آج ہی کے دن عالمی سطح پر پہلی بار 200000 سے کرونا کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ ادارے نے بتایا ہے صرف امریکہ میں 512326 نئے کیسز سامنے آئے، جو کل تعداد کے ایک چوتھائی سے زیادہ ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے بیان میں کہاگیاکہ ان عبوری نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری دوائیوں کے مقابلے میں ہائیڈروآکسی کلوروکوئن اور لوپیناویر/رٹوناویر اسپتال میں داخل مریضوں کی اموات میں کمی نہیں لاتیں۔ تجربہ کرنے والے معالج فوری طور پر ان کا استعمال بند کر دیں گے۔ادارے کی سرپرستی میں ان دوائوں کا مختلف ملکوں میں ٹیسٹ ٹرائل جاری تھا۔ادارے نے کہا کہ اس فیصلے کی سفارش تجربہ کرنے والی بین الاقوامی اسٹیرنگ کمیٹی نے کی ہے، جب کہ دیگر ادویات کا ٹیسٹ ٹرائل جاری ہے۔کرونا وائرس کے علاج کے حوالے سے عالمی ادارے کی دوسری ٹیم گلاڈ کی اینٹی وائرل دوائی، ریمڈیسیور کو آزما رہی ہے۔ یورپی کمشن نے جمعے کے دن ریمڈیسیور کے استعمال کی مشروط اجازت دے دی ہے، جب یہ ثابت ہوا کہ اس کا استعمال کرنے والے مریض قدرے جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ویکسین کے ٹیسٹ ٹرائل کو پانچ گروپوں میں بانٹا گیا تھا، تاکہ پتا چل سکے کہ کرونا وائرس کے علاج میں ان کی کوئی افادیت ہے۔ یہ ممکنہ ویکسین ریمڈیسیور، ہائیڈروآکسی کلوروکوئن، لوپناویر/رٹوناویر، جب کہ لوپناویر/ریٹاویر کا انٹرفرون کے ساتھ استعمال۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…