منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ثنا مکی میں کورونا کا علاج نہیں،طبی ماہرین نے واضح کردیا

datetime 9  جون‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)کراچی میں لوگوں نے سنامکی کا استعمال حد سے زیادہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق کورونا وائرس کے علاج کے لئے سنا مکی کا استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اس حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنا مکی کا استعمال کرنا کوئی اچھا خیال نہیں ہے، اس کا استعمال قبض کی صورت میں کیا جاتا ہے، سنامکی کے بہت زیادہ استعمال سے پیٹ کا شدید درد ہو سکتا ہے۔

اس حوالے سے ایک ڈاکٹر نے اپنے ذاتی تجربے کے بارے میں بتایا ہے کہ میری والدہ بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئی ہیں اور میری ایک دوست بھی، میں نے خود بھی سنا مکی کا استعمال کیا تھا جس کے بعد ہمیں پیٹ میں شدید درد ہوا تھا۔اس کے علاوہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی کورونا کا شکار ہونے کے بعد صحت یابی کی خبر کے ساتھ بتایا تھا کہ انہوں نے سنا مکی کا قہوہ استعمال کیا تھا جس سے وہ صحت یاب ہو گئے ہیں۔ان کے اس بیان پر بھی ڈاکٹروں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایک ذمہ دار شخص اور سیاسی شخصیت کی جانب سے اس طرح کے بیان کی امید نہیں تھی۔ہمارے ہاں لوگ تحقیق کے بغیر سنا مکی کا بہت زیادہ استعمال کر رہے ہیں جو نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر بلقیس کہتی ہیں کہ کورونا وائرس کا علاج ثنا مکی جڑی بوٹی میں نہیں البتہ اسکے دیگر فوائد و نقصانات ضرور ہیں۔ڈاکٹر بلقیس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معدہ ٹھیک رہے گا تو جسم کی تمام بیماریاں بھی ٹھیک رہیں گی۔انہوں نے کہا ثنا مکی کو مستقل طور پر اپنی عادت بنا لینا صحت کیلئے ٹھیک نہیں ورنہ آپ بغیر ثنا مکی استعمال کے بیت الخلا جانا دشوار ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر بلقیس کا کہنا تھا کہ ثنا مکی کا غلط استعمال آپ کی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور بچوں پر منفی اثرات ظاہر کر سکتی ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…