جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریلوی جوڑوں کاگلوبل وارمنگ کے باعث بچے پیدا نہ کرنے کا فیصلہ

datetime 23  ستمبر‬‮  2019 |

کینبرا (این این آئی)آسڑیلوی جوڑے گوبل وارمنگ کے باعث بچے پیدا نہ کرنے کا فیصلہ کررہے ہیںکیونکہ انہیں خوف ہے کہ موسمیاتی تغیر سے ان کے بچوں کو غیر محفوظ مستقبل کا سامنا کرنا پڑے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی تنظیم ون ملین ویمن اور آسٹریلین کنزرویشن فاونڈیشن کی جانب سے ایک سروے کیا گیا جس میں انہوں نے ہزاروں خواتین کو شامل کیا اور ان سے گلوبل وارمنگ سے

متعلق بات چیت کی تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے ان کے کیا خیالات ہیں۔چھ ہزار پانچ سو خواتین پر مشتمل سروے میں تقریبا 33 اعشاریہ 4 فیصد خواتین ایسی ہیں جن کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کے مستقبل کے بارے میں سوچ کر پریشان ہیں، اور اسی لیے انہوں نے اپنی فیملی نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں زیادہ تعداد ان خواتین کی ہے جن کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ایک 28 سالہ آسڑیلوی خاتون نے بتایا کہ وہ آب و ہوا کی تبدیلی کے باعث انسان میں پیدا ہونے والے اثرات کے لیے کافی فکرمند ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب وہ اپنی زندگی کے اس اسٹیج پر ہیں جہاں لوگ ان سے بچوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں لیکن گوبل وارمنگ کی وجہ سے انہوں نے اب تک اس حوالے سے نہیں سوچا ہے۔خاتون نے کہا کہ وہ اکثر اس بات پر غور کرتی ہیں کہ گوبل وارمنگ کے باعث انہیں اب تک کتنے نقصان کا سامنا ہوچکا ہے اور آگے کتنا اور ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بچوں کی وجہ سے بہت پریشانی ہے ، حالانکہ مجھے لگتا ہے کہ میں ایک بہت اچھی ماں بن سکتی ہوں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں۔موسمیاتی تبدیلی کی تنظیم ون ملین ویمن ایک نتالے اسسکس نامی خاتون کی جانب سے بنائی گئی ہے جس کا مقصد خواتین میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اس پر قابو پانے کے لیے گزشتہ روز دنیا بھر میں ماحول کو بہتر بنانے کا عالمی دن منایا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…