جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے اہم شہر میں ایڈز بے قابو مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ

datetime 21  ستمبر‬‮  2019 |

لاڑکانہ(این این آئی)لاڑکانہ کے علاقے رتو ڈیرو میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد مسلسل اضافے کے باعث 1 ہزار 46 تک جاپہنچی ہے۔ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کو روکنے کے لیے گلوبل فنڈ کا رتو ڈیرو میں ایڈز کے متاثرہ مریضوں کے لیے ایک ملین ڈالر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق رتو ڈیرو میں 510 بچوں میں ایڈز پایا گیا ہے جب کہ 155 لڑکیوں اور 53 لڑکوں میں ایڈز کی تشیخص ہو چکی ہے۔

328 چھوٹی بچیوں میں بھی ایڈز کے جراثیم پائے گئے ہیں۔رتوڈیرو میں گلوبل فنڈ کے تعاون سے ایڈز کے متاثرہ مریضوں کو ساری زندگی کے لیے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کی حکمت تیار کر لی گئی ہے ساتھ ہی ساتھ ایڈز کے مرض سے نمٹنے کے لیے سرویلنس سٹم شروع کرنے پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایاکہ آئندہ ماہ عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)کی ٹیم کی پاکستان آمد بھی متوقع ہے۔ڈیلبو ایچ او کی ٹیم رتو ڈیرو میں ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ میں انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کرائے گی۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں 22 ہزار افراد اس مہلک بیماری کا شکار ہوئے۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایڈز کے مرض میں مبتلا 14سال تک کی عمر کے بچوں کی تعداد 1400 ہوچکی ہے اور5 ہزار900 خواتین اس مہلک بیماری کا شکار ہوئیں۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مردوں میں بھی ایڈز کا تیزی سے پھیلاو دیکھنے میں آیاہے۔ سال 2018 میں 15 ہزار مرد ایڈزمیں مبتلا ہوئے ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال 6 ہزار400 افراد ایڈز کی وجہ سے ہلاک ہوئے جن میں 800 بچے ، 1800 خواتین اور 3800 مرد شامل ہیں ۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایڈز میں مبتلا مریضوں کی کل تعداد 1لاکھ 60ہزار ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایڈز کے مریضوں میں سے انجیکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے 21 فیصد افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…