جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کیلے کے چھلکے کے وہ حیرت انگیز فوائدجنہیں جان کر انہیں کچرے میں پھنکنا چھوڑ دیں گے

datetime 16  جولائی  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کیلا صحت کے لیے فائدے مند ہے بالکل اُسی طرح اس کا چھلکا بھی مفید ہے۔تفصیلات کے مطابق کیلا ایک ایسا ذائقہ دار پھل ہے جسے ہر دوسرا شخص پسند کرتا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا چھلکا کس قدر غذائیت سے بھرپور ہے۔

اور یہ امراض کے لیے کتنا فائدہ مند ہے۔غذائیت سے بھرپور اس پھل کا استعمال وافر مقدار میں کیا جاتا ہے اور طبی ماہرین بھی کئی بیماریوں میں مریض کو کیلے کو زیادہ سے زیادہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔عام طور پر لوگ کیلا کھا کر اُس کا چھلکا کچرے میں پھینک دیتے ہیں کیوں کہ وہ نہیں جانتے ہیں یہ اُن کے لیے کتنا مفید ہے۔کیلے کا چھلکا دانتوں کی سفیدی کے لیے مفیدہوتا ہے، کیلے کے چھلکے میں پوٹاشیم کی وافر مقدار موجود ہے جو دانتوں کے پیلے پن کو دور کردیتی ہے، چھلکے کو گندے دانتوں پر رگڑا جائے تو فرق واصح طور پر سامنے آجاتا ہے۔اس سے خارش کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔کیلے کے چھلکے سے خارش کی بیماری کا علاج بھی ممکن ہے، متاثرہ شخص اگر اپنی خشک جلد پر چھلکے کو رگڑتا ہے تو اس سے جلد آئلی نارمل ہوجاتی ہے، چھلکے پر شہد لگا کر خارش زدہ جلد پر اسے رگڑیں تو جسم کی خارش کم ہوجاتی ہے اور اس عمل سے بیماری ختم بھی ہوجاتی ہے۔یہ مسوں اور دانوں کے خلاف بھی موثر کام کرتا ہے۔ہاتھوں پیروں یا جسم کے کسی بھی حصے پر مسّے (دانے) اندورنی وائرس پیدا ہونے کی وجہ سے نمودار ہوتے ہیں جن کا طویل علاج کیا جاتاہے تاہم کیلے کے چھلکے میں ایک ایسا پروٹین موجود ہے جو اس وائرس کو ختم کرنے میں بہت مدد دیتا ہے جبکہ کیل مہاسے اور چہرے کی چھائیوں سے پریشان نوجوانوں کیلئے بھی یہ بہترین چیز ہے۔ کیلے کے چھلکے کو آہستہ آہستہ منہ پر لگاکر ان جھائیوں اور جھریوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…