ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

نیپال میں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ،صحت کے اداروں کاانتباہ

datetime 5  مئی‬‮  2015 |

کھٹمنڈو(نیوزڈیسک)نیپال میں زلزلے کے بعد ہونے والی تباہی کے بعد تباہ ہونے والے علاقوں میں کام کرنے والے صحت کے اداروں نے انتباہ کیاہے کہ نیپال میں وبائی امراض پھوٹنے کاخدشہ ہے کیونکہ نیپال میں 25 اپریل کو 7.8 کی شدت سے آنے والے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 7,000 سے زائد ہو گئی ہے ۔بین الاقوامی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ نیپال کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں رہائش اور گندے پانی کی نکاسی کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث ہیضہ، اسہال اور دیگر امراض پھوٹ سکتے ہیں۔برطانوی امدادی ادارے ڈِزاسٹرز ایمرجنسی کمیٹی (ڈی ای سی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں متاثرین کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔بارہ خیراتی اداروں پر مشتمل اس تنظیم کا کہنا ہے کہ نیپال کے زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔خیال رہے کہ نیپال میں 25 اپریل کو ریکٹر سکیل پر 7.8 کی شدت سے آنے والے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 7,000 سے زائد جبکہ زخمیوں کی تعداد 10,000 تک پہنچ گئی ہے۔اس وقت دنیا بھر سے4,000 سے زائد امدادی کارکن زلزلے کے متاثرین کی مدد میں حصہ لینے کے لیے نیپال میں موجود ہیں۔ڈی ای سی کی امدادی ایجنسیاں زلزلہ متاثرین کو ہنگامی رہائش، پینے کا صاف پانی اور گندے پانی کی نکاسی کا انتظام کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔برطانوی امدادی ادارے ڈی ای سی کے ترجمان نے بتایا کہ انھیں اسہال اور سینے میں انفیکشن کی متعدد رپورٹیں پہلی ہی موصول ہو چکی ہیں۔ڈی ای سی کی امدادی ایجنسیاں زلزلے کے متاثرین کو ہنگامی رہائش، پینے کے صاف پانی اور گندے پانی کی نکاسی کا انتظام کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔ڈی ای سی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ ابھی نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے تاہم اس ماہ کے اختتام پر مون سون کا موسم شروع ہونے سے پہلے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈی ای سی کے ترجمان کے مطابق نیپال میں ہیضے کی وبا کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ سنہ 2009 میں تین لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہوئے جبکہ گذشتہ سال یہ تعداد 600 تھی۔امدادی ادارے ڈی ای سی نے نیپال کے زلزلہ متاثرین کے لیے اب تک تین کروڑ 30 لاکھ پاونڈ سے زائد کی رقم کی اپیل کی ہے۔برطانوی حکومت نے عوامی فنڈ کے ذریعے 50 لاکھ پاونڈ فراہم کیے ہیں اور مزید مدد کی یقین دہانی کروائی ہے۔خیال رہے کہ برطانیہ نیپال کے زلزلہ متاثرین کے لیے سب سے زیادہ امداد فراہم کر رہا ہے جس کا کل حجم دو کروڑ 28 لاکھ پاونڈ بتایا جاتا ہے۔ڈی ای سی کی رکن آکسفیم بھی کٹھمنڈو کے چار کیمپوں میں صاف پانی کی فراہمی اور نکاسیِ آب کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔اسی طرح امدادی ادارے ایکشن ایڈ نےکٹھمنڈو سے باہر موجود 2,500 افراد کے لیے جراثیم کش ادویات پر مشتمل کِٹس فراہم کی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…