اسلام آباد (نیوزڈیسک ) انگریزی زبان میں ایسے بہت سے محاورے ہیں جن میں آنتوں کا تذکرہ ہے۔ اردو زبان میں جن محاوروں میں دل کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ دل کی سنیں، یا دل سے آواز آئی وغیرہ وغیرہ ان کیلئے انگریزی زبان میں ”گٹ“ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ذہن کے بجائے آنتوں کی زبان کو سمجھنے یا سننے کے حوالے سے معروف ان محاوروں کا محض زباندانی کی حد تک تعلق نہیں ہے بلکہ یہ تعلق سچ مچ موجود ہے۔ دماغ اور آنتوں کے بیچ اس تعلق کو اگر سمجھ لیا جائے تو ہاضمے اور صحت کے حوالے سے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ دونوں کو آپس میں جوڑنے کیلئے لاکھوں نیورانز کام کرتے ہیں۔دونوں کے بیچ اس تعلق کو قائم کرنے میں ہارمونز اور کیمیکلز بھی اہم کردار کرتے ہیں جن سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم کس قدر بھوکے یا پھر یہ کہ کیا ہم ذہنی دباو¿ کا شکار ہیں یا نہیں۔ اسی طرح امتحان میں فیل ہونے کی اطلاع سننا یا پھر بٹوہ کھو جانے پر پیٹ میں اٹھنے والا اچانک گولا بھی دل و دماغ کے بیچ اسی تعلق کی ایک مثال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل انسانی نظام انہظام میں ملوث نیورونز کا نظام اس قدر پیچیدہ ہے کہ یہ ایک انفرادی نظام کے طور پر بھی کام کرسکتا ہے،
مزید پڑھئے:نہاتے نہاتے بچی کی پیدائش
اس کے علاوہ یہ اسی قدر پیچیدہ ہے جس قدر کہ خود مرکزی اعصابی نظام اور اس میں شامل اعضاءہیں۔ یہ نظام جسم میں موجود دیگر نظاموں کی طرح کلی طور پر دماغ سے موصول ہونے والے احکامات کی روشنی میں کام نہیں کرتا ہے بلکہ کسی حد تک خود مختار حیثیت میں کام کرتا ہے۔ ماہرین کے خیال میں دراصل یہ ہاضمے کے نظام کی اہمیت ہی ہے کہ جس کی بدولت جسم کے دیگر نظاموں کے برعکس اس نظام میں اعصابی نظام کسی حد تک خود مختار حیثیت میں کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔
ہاضمے کے نظام سے جڑا خود کار اعصابی نظام آنتوں سے غذا کی مقدار کے گزرنے کی رفتار کو کنٹرول کرتا ہے۔ معدے میں ہاضمے کے عمل کو مکمل کرنے کیلئے تیزاب کی کس مقدار خارج ہونی ہے، یہ فیصلہ بھی یہی اعصابی نظام کرتا ہے اور آنتوں کی سطح پر نمی پیدا کرنا تاکہ غذا اپنا سفر جاری رکھ سکے، اسی اعصابی نظام کی ذمہ داری ہے۔ یہ اعصابی نظام اگرچہ براہ راست مرکزی اعصابی نظام سے احکامات وصول نہیں کرتا ہے تاہم یہ اسی سے نتھی ہوتا ہے اور دماغ کو گاہے گاہے صورتحال سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ ہاضمے اور موٹاپے کے حوالے سے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر پیٹ میں چھپے اس دماغ سے موصول ہونے والے سگنلز کو سمجھا جائے تو صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔یہ ذیلی اعصابی نظام دماغ کو سگنل بھیجتا ہے کہ معدہ خالی ہے اور اس میں تیزابی کیفیت پیدا ہورہی ہے، جس پر دماغ بھوک کا احساس بیدار کردیتا ہے اور اسی طرح جب یہ ذیلی اعصابی نظام دماغ کو یہ سگنل بھیجتا ہے کہ معدہ میں غذا کی مقدار مناسب ہوچکی ہے تو پیٹ بھرنے کا احساس پیدا ہونے لگتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ موٹاپے کو کنٹرول کرنے کیلئے اگر مرکزی اعصابی نظام کو انسان اپنے قابو مین کر لے تو ایسے میں وہ ذیلی اعصابی نظام اور اس سے جڑے نظام انہضام کو بھی اپنے قابو میں کرسکتا ہے۔ اس کیلئے کھانے پینے کی عادات پر کنٹرول سختی سے ضروری ہے۔ بے وقت کی بھوک کی صورت میں دماغ کو ایسی چیزوں سے بہلایا جائے جو کہ دراصل زیادہ کیلوریز پیدا نہ کریں اور دماغ کو غذائی سپلائی بحال ہونے کا دھوکہ دیں۔ رات گئے جاگنے والی بھوک کی صورت میں دماغ کو یہ سکھائیں کہ رات کا وقت کھانے کیلئے نہیں بلکہ سونے کیلئے ہے اور وغیرہ وغیرہ۔ کوشش کریں کہ آپ کے مرکزی اعصابی نظام پرآپ کا کنٹرول ہوجائے اس کے بعد پیٹ میں چھپے دماغ اور اس سے نشر ہوتے سگنلز کو اپنے قابو میں کرنا ہرگز مشکل نہ ہوگا۔



















































