اسلام آباد (نیوزڈیسک )برطانوی ماہرین امراض جلد کی تنظیم کے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ تین چوتھائی برطانوی شہری جلد کے سرطان کی علامات کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔اس مرض کے نتیجے میں برطانیہ میں 2100 افراد ہلاک ہو جاتے ہیں، جبکہ اس جائزے میں شامل 95 فیصد افراد کو یہ تو پتہ تھا کہ یہ بیماری عام ہوتی جا رہی ہے مگر اس سے خدشہ ظاہر ہوا کہ انھیں اس بیماری کا علم نہیں اور وہ اسے سن برن سمجھتے تھے جس میں جلد دھوپ میں جھلس جاتی ہے۔اس جائزے کے لیے 1018 افراد سے بات کی گئی جن سے گذشتہ سال گرمیوں میں سورج کے حوالے سے معلوماتی ہفتے کے دوران رابطہ کیا گیا۔اس کا مقصد لوگوں کو جلد کے سرطان کی علامات کی آگہی دینا اور دھوپ سے بچاو¿ کی تکنیک پر معلومات فراہم کرنا ہے۔جلد کا سرطان 1960 سے برطانیہ میں بڑھ رہا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب سے بیرونِ ملک سستی چھٹیوں کے پروگرام دستیاب ہوئے اور باہر گھومنے پھرنے کا رجحان بڑھا ہے۔تنظیم کے مطابق ہر سال جلد کے سرطان کی قسم نان میلونوما کے ڈھائی لاکھ سامنے آتے ہیں جو اس کی سب سے عام قسم ہے، جبکہ ہر سال میلونوما کے 13 ہزار کیس آتے ہیں جو مہلک مرض ہے۔جائزے کے مطابق 85 فیصد افراد کو برطانوی موسم کے جلد کے سرطان پر پڑنے والے اثرات پر تشویش ہے۔40 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اس مرض کی علامات کے بارے میں پتہ نہیں کرتے جبکہ 77 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ میلونوما کی علامات کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور 81 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ نان میلونوما کی علامات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔جلد کا سرطان 1960 سے برطانیہ میں بڑھ رہا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب سے بیرونِ ملک سستی چھٹیوں کے پروگرام دستیاب ہوئے اور باہر گھومنے پھرنے کا رجحان بڑھا ہے۔سن برن سے متاثر ہونے والے افراد میں یہ بیماری پیدا ہونے کے دگنے امکانات ہوتے ہیں۔بیڈ یا برطانوی ڈرماٹولوجسٹ ایسوسی ایشن کے جوناتھن میجر کے مطابق ان کے حیرت کی بات ہے کہ گذشتہ سال 72 فیصد افراد دھوپ سے جھلسنے کا شکار ہوئے۔انھوں نے کہا کہ ’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سورج کی تپش سے بچاو¿ کی بری عادتیں ہیں اور لوگ جلد کے جلنے کو اہمیت نہیں دیتے اور بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ جلد صرف سرخ ہو رہی ہے جو بے ضرر ہے، حالانکہ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جلد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔‘سورج کی روشنی اور تپش کے صحت کے لیے یقینی فائدے ہیں اور اس کی روشنی جلد کے تحفظ میں مددگار ہوتی ہے، اسے وٹامن ڈی فراہم کرنے میں جس سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف ماہرینِ جلد کہتے ہیں کہ دھوپ میں نکلتے وقت سن سکرین کا استعمال بہت ضروری ہے اور سائے میں رہنا اور باہر نکلتے وقت کپڑے سے جسم کو ڈھانپنا اہم ہے۔
+
بر طانیہ : اکثر شہری جلد کے سر طان سے لاعلم
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
-
وفاقی حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
-
نئے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے اور پنشنرزکی تنخواہوں میں اضافے کا امکان
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
-
معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کو مبینہ طور پر شربت میں زہریلی چیز پلا دی گئی، اسپتال منتقل
-
لکڑی کا تختہ
-
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 250 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ
-
یکم جون سے گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی! الرٹ جاری
-
پوجا بھٹ نے اپنے باپ مہیش بھٹ کے اسلام قبول کرنے کا انکشاف کردیا
-
اقرار الحسن نے عمران خان سے معافی مانگ لی
-
ملک میں سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
پسند کی شادی کرنیوالا لڑکاہلاک، لڑکی کی ٹانگیں توڑ دی گئیں
-
امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار
-
عید کے موقع پر تصویر بنانے کے بہانے بلا کر مبینہ طور پر زہریلی چیز پلائی گئی،شکر ہے میری بیوی نے جوس...



















































