منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت دفاع سے زیادہ تعلیم کیلیےبجٹ مختص کرے،ملالہ

datetime 15  فروری‬‮  2015 |

کراچی: نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کوان کی تعلیمی خدمات پرخراج تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف سماجی تنظیموں، سول سوسائٹی اورشہید ذوالفقارعلی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (زیبسٹ) کے اشتراک سے تقریب منعقد کی گئی جس میں ملالہ یوسف زئی کو قوم کی بہادربیٹی قراردیتے ہوئے شرکانے اس عزم کااعادہ کیا کہ ان کاتعلیمی مشن جاری رکھا جائے گا۔

دہشت گردی وانتہا پسندی کامقابلہ تعلیم کے ذریعے کرنا ہوگا اوراس کے لیے حکومت اور معاشرے کے ہرطبقے کواپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پرملالہ یوسف زئی نے اپنے ریکارڈشدہ پیغام میں کہاکہ پاکستانی قوم میں قابلیت بہت ہے، ملک معدنی دولت سے مالامال ہے، شرپسندی سے نجات کے لیے تعلیم ہی ہتھیارہے، حکومت کودفاع سے زیادہ بجٹ تعلیم کے لیے مختص کرنا چاہیے، قوم کودہشت گردی کے خلاف متحد ہونا چاہیے تاکہ پشاوراسکول حملے جیسے سانحات دوبارہ نہ ہوں، لڑکیوں کوتعلیم کے میدان میں آگے آنا ہوگا۔

تقریب سے خطاب میں کائنات سومرونے کہاکہ ملالہ سے مل کردلی خوشی ہوئی۔ علم کے فروغ کی مہم میں ملالہ کے ساتھ شامل ہوگئی ہوں۔ معروف کالم نگارزاہدہ حنا کا کہنا تھا کہ ملالہ نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور علم دشمن قوتوں کے سامنے سرنہیں جھکایا۔ عورتیں تمام علوم وشعبوں میں کمال ومہارت رکھتی ہیں، کسی اعتبارسے مردوں سے کم نہیں لیکن 80 فیصدخواتین کے ساتھ گھریلوسطح پر ہی ناانصافی کا سلوک روارکھا جاتا ہے، اسے روکنے کی ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کی ایم این اے نفیسہ شاہ کاکہنا تھاکہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ تقریب میں سول سوسائٹی کی جانب سے ایک قراردادمیں حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ کالعدم تنظیموں سے مذاکرات کے بجائے ان کے خلاف بھرپور آپریشن کیاجائے، ملک میں یکساں تعلیمی نظام رائج کیا جائے اوردہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان مرتب کرکے اُس پرعملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

پنجاب یونیورسٹی کانام بدل کے ڈاکٹر عبدالسلام یونیورسٹی اورپشاور یونیورسٹی کانام ملالہ یوسف زئی رکھاجائے۔ تقریب کے اختتام پرملالہ کے اعزازمیں شیماکرمانی نے اپنے فن کامظاہرہ کیاجبکہ مختلف شعراکی غزلیات بھی پیش کی گئیں۔ تقریب میں سانحہ پشاور وشکارپور کے شہداکی یادمیں ایک منٹ کی خاموشی اختیارکی گئی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عبدالسلام کی زندگی پرمبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ شرکانے اس پروگرام کے انعقادپر زیبسٹ کی خدمات کوسراہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…