منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کبھی آپ نے اس بات کا بھی سوچا،مرنے کے بعد فیس بک اکاؤنٹ کا کیا بنے گا

datetime 13  فروری‬‮  2015 |

فیس بک نے ایک نئی سیٹنگ متعارف کروائی ہے جس میں صارفین کو یہ آپشن دیا گیا ہے کہ ان کے مرنے کے بعد ان کا اکاؤنٹ مستقل طور پر ختم کر دیا جائے۔

یا اگر وہ چاہیں تو اپنے خاندان کے کسی فرد یا کسی دوست کو بعض چیزوں کے استعمال کا اختیار دے سکتے ہیں جسے وہ ان کی موت کے بعد استعمال کر سکتے ہیں۔

فیس بک کو جن سہولیات کے لیے سب زیادہ درخواست کی گئی تھی یہ ان میں سے ایک تھی۔

’فیس بک لیگیسی کانٹیکٹ فیچر‘ یعنی فیس بک کو وراثت میں دینے سے متعلق یہ آپشن ابتدائی طور پر صرف امریکہ میں دستیاب ہوگا۔

اس نئے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے فیس بک کا کہنا تھا: ’جب کوئی انتقال کر جاتا ہے تو اس کا فیس بک اکاؤنٹ اس کی زندگی، دوستیوں اور تجربات کی یادگار بن جاتا ہے۔

’جن لوگوں کو اس کی وجہ سے نقصان ہو ان لوگوں سے بات کرنے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ دکھ کا شکار لوگوں کی مدد کے لیے ہم کچھ مزید اقدامات کر سکتے ہیں اور وہ لوگ جو اس بارے میں رائے دینا چاہتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے اکاؤنٹ کے ساتھ کیا ہو گا۔‘

اگر ایک صارف کسی دوسرے شخص کو اختیار دیتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد وہ اس کے اکاؤنٹ کو چلا سکے تو اس کے پاس یہ اختیارات ہوں گے۔

  • یادگار ٹائم لائن پر پوسٹ لگانا
  • دوستی کے لیے نئی درخواستوں کا جواب دینا
  • پروفائل تصویر اور کور فوٹو تبدیل کرنا
فیس بک کی کوشش ہے کہ وہ ان خاندانوں کی مدد کرے جن کے پیارے اس دنیا سے چلے گئے

اس کے علاوہ جس شخص کو وراثت کا حق دیا جائے گا اسے اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی تصاویر، پوسٹس اور پروفائل کے بارے میں معلومات ڈاؤن لوڈ کرنے کا اختیار بھی دیا جا سکے گا۔

باقی کی سیٹنگ اسی طرح قائم رہیں گی۔ وراثت پانے والا شخص مرے ہوئے شحض کی جگہ لاگ اِن نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اس کے ذاتی پیغامات پڑھ سکے گا۔

فیس بک کی کوشش ہے کہ وہ ان خاندانوں کی مدد کرے جن کے پیارے اس دنیا سے چلے گئے اور کئی اہم معاملات میں خاندان کے افراد کو مرے ہوئے رشتہ داروں کے صفحات تک رسائی درکار تھی۔

ایک معاملے میں ایک لڑکے کے والد کی خواہش تھی کہ وہ فیس بک کے ماضی پر ایک نظر ڈالنے والے فیچر کے تحت اپنے بیٹے کی ویڈیو فلم بنائیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے کیونکہ انھیں اپنے بیٹے کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل نہیں تھی۔

فیس بک نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ ان کے لیے ان کے بیٹے کی ویڈیو بنا دیں گے اور یہ بھی کہ فیس بک اسی طرح کے حالات کا شکار خاندانوں کی مدد کے لیے طریقۂ کار نکالیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…