ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

دوسرا جنم – پانچ سالہ بچہ جو پہلے تیس سالہ خاتون تھا

datetime 11  فروری‬‮  2015 |

آپ اگر بالی ووڈ فلمیں شوق سے دیکھتے ہیں تو پھر آپ یقینا پچھلے جنم اور اگلے جنم جیسے الفاظ ضرور سنتے ہوں گے ‘ بالی ووڈ فلموں میں اکثر یہ جملے سننے کو ملتے ہیں کہ تم نے پچھلے جنم میں ضرور کوئی پاپ کئے ہوں گے جس کی سزا تمہیں اس جنم میں مل رہی ہے‘ تم پچھلے جنم ضرور گدھے ہو گے‘ اس لئے گدھوں جیسی حرکتیں کر رہے ہو‘ہندو مذہب کے مطابق انسان کے سات جنم ہوتے ہیں‘ انڈین کلچر یا انڈیا سے اگر اس قسم کی باتیں آپ کو سننے یا دیکھنے کو ملیں تو آپ کو کوئی حیرانی نہیں ہو گی لیکن اگر کسی ترقی یافتہ ملک کے کسی شہری اور وہ بھی امریکا جیسے ملک کے کسی شہر سے ایسی خبر آئے تو آپ یقینا چونکیں گے‘ ایسی ہی ایک خبر نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔

امریکا کی ریاست اوہائیو کے شہر سنسیناٹی کی ایک خاتون ایریکا کا دعویٰ ہے کہ اس کا بیٹا پچھلے جنم میں ایک 30 سالہ سیاہ فام خاتون تھا‘ ایریکا کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا جس کا نام لیوک ریہولمین ہے کا کہنا ہے کہ ”جب میں جاگا تو میں ایک بچہ تھا اور تم نے مجھے لیو ک کے نام سے پکارا تھا“ ۔ لیوک کی والدہ ایریکا کا کہنا ہے کہ دو سال کی عمر میں پہلی بار اس نے اس طرح کی باتیں شروع کیں اور یہ بھی کہا کہ اپنی پچھلی زندگی میں وہ ایک عورت تھی جس کا نام پامیلا رابنسن تھا ‘ وہ شکاگو میں رہتی تھی لیکن ایک بلڈنگ میں 1993ءمیں آگ لگنے سے ہلاک ہوگئی تھی۔اس کی ماں کا کہنا تھا کہ اس کا بیٹا لیوک کہتا ہے کہ جب وہ ایک لڑکی تھی تو اس کے سیاہ لمبے بال تھے اور وہ کانوں میں بالیاں بھی پہنتا تھا۔ایریکا کہتی ہے کہ شروع میں اس نے ان باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہ لیا لیکن پھر بچے نے یہ باتیں کہنا شروع کردیں۔ لیوک کا کہنا ہے کہ وہ پچھلی زندگی میں’پامیلا رابنسن ‘تھا، وہ ایک بلڈنگ میں لگنے والی آگ میں جل مرا تھا اور پھر جنت میں چلا گیا جہاں سے اسے دوبارہ اس دنیا میں بھیجا گیا ،جب اس کی آنکھ کھلی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کا نام ”لیوک“ ہے۔ ان تمام باتوں کو ایریکا نے فاکس 8 پر ایک ٹی وی شو میں بتایا‘ ایریکا کا کہنا تھا کہ وہ پامیلا رابنسن کی فیملی سے بھی مل چکی ہے جہاں بچے کو مختلف سیاہ فام خواتین کی تصاویر دکھائی گئیں اور اسے ’پامیلا‘ کی تصویر کی شناخت کا کہا گیا تو بچے نے بالکل ٹھیک تصویر کی شناخت کی۔ ان تمام باتوں کی وجہ سے ایریکا بہت پریشان ہے۔ پامیلا ربنسن کے والدین نے جو باتیں بتائیں وہ لیوک کے باتوں سے بہت مطابقت رکھتی ہیں جیسا کہ لیوک امریکن میوزیشن سٹیو وانڈر کو پسند کرتا ہے اور پامیلا بھی اسے پسند کرتی تھی تاہم جب فاکس 8 نے پامیلا کے والدین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…