ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

بغداد میں 12 سال سے نافذ کرفیو ختم،شہری دیوانہ وار گلیوں میں نکل آئے

datetime 8  فروری‬‮  2015 |
بغداد۔۔۔۔عراق کے دارالحکومت بغداد میں گذشتہ 12 سال سے نافذ کرفیو کے ہٹائے جانے پر لوگوں نے جشن منایا۔سماجی رابطے کی سائٹوں پر جاری کی جانے والی تصویروں میں لوگوں کو سڑکوں پر ناچتے گاتے دکھایا گیا ہے۔12 سال سے جاری یہ پابندی مقامی وقت کے مطابق نصف شب کو ہٹائی گئی۔عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا کہ انھوں نے ’بغداد میں زندگی کو معمول پر لانے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔‘یہ فیصلہ سنیچر کو ہونے والے ایک سلسلے وار بم حملے کے باوجود کیا گیا ہے۔ ان بم دھماکوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔لوگوں نے سوشل میڈیا پر کرفیو ہٹائے جانے کے مناظر پیش کییاس سے قبل نصف شب 12 بجے سے صبح پانچ بجے کے درمیان بغداد میں لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہوا کرتی تھی۔اس پابندی کے ہٹائے جانے کے بعد بغداد میں لوگ سڑکوں پر پرچم لے کر نکل آئے اور کار کے ہارن بجا کر اس کا جشن منایا۔ایک کیفے کے مالک فائز عبداللہ نے کہا ’پہلے ہمیں ایسا لگتا تھا جیسے ہم قید میں ہوں۔ ہم محدود تھے۔‘جبکہ ایک دکان کے مالک مروان ہاشم نے کہا: ’ہم اس فیصلے کے برسوں سے منتظر تھے۔‘واضح رہے کہ رات کا کرفیو سنہ 2003 میں امریکی حملے کے بعد سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نافذ کیا گیا تھا۔اس فیصلے سے قبل ہی بغداد میں ایک ریستوراں کے پاس خودکش دھماکے میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے تھے
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مسٹر عبادی کے دفتر کے ایک اہلکار نے کہا کہ ’ملک میں جنگی صورت حال کے باوجود یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔عراق کے متعدد شہروں کے لیے بم دھماکے روزانہ کا معمول ہیں جبکہ وہاں دولت اسلامیہ سے خطروں کا سامنا بھی ہے جنھوں نے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکوں میں سے ایک کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 22 افراد ہلاک ہوئے جب ایک خودکش نے ایک ریستوراں کے سامنے خود کو اڑا لیا۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…