منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بغداد میں 12 سال سے نافذ کرفیو ختم،شہری دیوانہ وار گلیوں میں نکل آئے

datetime 8  فروری‬‮  2015 |
بغداد۔۔۔۔عراق کے دارالحکومت بغداد میں گذشتہ 12 سال سے نافذ کرفیو کے ہٹائے جانے پر لوگوں نے جشن منایا۔سماجی رابطے کی سائٹوں پر جاری کی جانے والی تصویروں میں لوگوں کو سڑکوں پر ناچتے گاتے دکھایا گیا ہے۔12 سال سے جاری یہ پابندی مقامی وقت کے مطابق نصف شب کو ہٹائی گئی۔عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا کہ انھوں نے ’بغداد میں زندگی کو معمول پر لانے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔‘یہ فیصلہ سنیچر کو ہونے والے ایک سلسلے وار بم حملے کے باوجود کیا گیا ہے۔ ان بم دھماکوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔لوگوں نے سوشل میڈیا پر کرفیو ہٹائے جانے کے مناظر پیش کییاس سے قبل نصف شب 12 بجے سے صبح پانچ بجے کے درمیان بغداد میں لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہوا کرتی تھی۔اس پابندی کے ہٹائے جانے کے بعد بغداد میں لوگ سڑکوں پر پرچم لے کر نکل آئے اور کار کے ہارن بجا کر اس کا جشن منایا۔ایک کیفے کے مالک فائز عبداللہ نے کہا ’پہلے ہمیں ایسا لگتا تھا جیسے ہم قید میں ہوں۔ ہم محدود تھے۔‘جبکہ ایک دکان کے مالک مروان ہاشم نے کہا: ’ہم اس فیصلے کے برسوں سے منتظر تھے۔‘واضح رہے کہ رات کا کرفیو سنہ 2003 میں امریکی حملے کے بعد سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نافذ کیا گیا تھا۔اس فیصلے سے قبل ہی بغداد میں ایک ریستوراں کے پاس خودکش دھماکے میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے تھے
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مسٹر عبادی کے دفتر کے ایک اہلکار نے کہا کہ ’ملک میں جنگی صورت حال کے باوجود یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔عراق کے متعدد شہروں کے لیے بم دھماکے روزانہ کا معمول ہیں جبکہ وہاں دولت اسلامیہ سے خطروں کا سامنا بھی ہے جنھوں نے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکوں میں سے ایک کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 22 افراد ہلاک ہوئے جب ایک خودکش نے ایک ریستوراں کے سامنے خود کو اڑا لیا۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…