پیر‬‮ ، 23 مارچ‬‮ 2026 

خواتین تفتیش کاروں زبردستی ’سیکس‘ کیا تھا۔

datetime 23  جنوری‬‮  2015 |

وانتانامو بے کے ایک قیدی نے اپنی یاداشتوں پر مبنی ایک حالیہ کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ دوران قید خواتین تفتیش کاروں نے اس کے ساتھ زبردستی ’سیکس‘ کیا تھا۔

محمد ولد صلاحی 90 کی دہائی میں افغانستان میں روس کے قبضے کے دورانگ تنظیم القاعدہ کا حصہ بنے تھے اور 2002 میں کیوبا میں قید کئے گئے۔

صلاحی یا قیدی نمبر 760 نے اپنی یاداشتوں پر مبنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اس کے ساتھ ہی تین تفتیش کاروں نے زبردستی سیکس کیا۔

غیر ملکی جریدے مرر کے مطابق قیدی کی جانب سے لکھی گئی کتاب کے ترمیم شدہ ایڈیشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان تفتیش کاروں نے اس کو قید کے دوران تشدد کرنے سے پہلے اپنا لباس اتارا اور ’گندی باتیں‘ شروع کردی۔

دی انڈیپنڈینٹ کی رپورٹ کے مطابق صلاحی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ انہیں سیکس کے باعث شدید تکلیف پہنچتی اور انہیں اس عمل میں شامل کرنے کے لیے زبردستی کی جانے لگی۔

صلاحی کی تحریر امریکی فوج کی قید میں رہنے والے ایک قیدی کی اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ اس کتاب کو شائع کروانے کیلئے صلاحی چھ سال سے کوششیں کررہے ہیں۔

قیدی نے کتاب میں اس پر دوران قید جسمانی اور ذہنی تشدد، ظالمانہ سلوک اورانسانیت سوز مظالم کے حوالے سے اپنی یاداشتوں کوجمع کیا ہے۔

44 سالہ صلاحی نے الزام لگایا ہے کہ اس کو دوران قید بار بار مارا جاتا، زبردستی نمک ملا پانی پلایا جاتا اور یہاں تک کے ’سرد کمروں‘ میں گھنٹوں تک رکھا جاتا تھا۔ صلاحی نے کتاب میں لکھا ہے کہ اس پر ہوانے والا ظلم عذاب سے کم نہیں تھا۔

دی انڈیپنڈینٹ کے مطابق صلاحی نے کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ دوران قید اس کو دو ماہ تک مستقل سونے نہیں دیا گیا، ’70 دن تک میں سو نہیں سکا تھا، 24 گھنٹے تفتیش کی جاتی تھی اور بعض اوقات دن میں تین بار اور بعض اوقات چار بار تفتیش کی جاتی تھی‘۔

دی انڈیپنڈینٹ کی رپورٹ کے مطابق صلاحی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس کو ایک خاتون تفتیش کار نے کہا تھا کہ ’اگر قیدی معاونت کرے تو وہ اس کو ہراس کرنا بند کرسکتی ہے بصورت دیگر وہ بھی اس کو روزانہ بدترین تشدد کا نشانہ بنائے گی‘۔ جبکہ وہاں دوران قید کسی سے زبردستی سیکس کرنا تشدد کے زمرے میں نہیں سمجھا جاتا تھا۔

مذکورہ قیدی کی وکیل نیسی اولانڈر نے یہ کیس 2005 میں لیا تھا، ان کا دعویٰ تھا کہ صلاحی پر کبھی بھی کسی جرم کا کیس نہیں بنایا گیا اوران کے موکل کودوران قید تشدد کا نشانہ بنانا گیا ہے اور یہ سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کا نیا حربہ تفتیش ہے۔

گوانتاناموبے قیدیوں کی جانب سے وہاں کیے جانے والے تشدد نے دنیا بھر میں ماضی میں ایک بحث کا آغاذ کردیا تھا اور اسی لئے امریکا کی حکومت کو 2002 میں بنائے گئے قید خانے کو بند کرنے کیلئے کافی دباؤں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…