منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کو ویب سائٹس پر پابندی کیوں لگائی، کلک کرکے پڑھیں

datetime 5  جنوری‬‮  2015 |

نئی دہلی۔۔۔۔بھارت میں 30 سے زیادہ ویب سائٹس پر پابندی کا سرکاری فیصلہ عوام میں غم اور غصہ کا باعث بن رہا ہے۔بھارت کے مواصلات کے محکمے نیں جہادیوں کی کارروائیوں کا سدِباب کرنے کے لیے ان ویب سائٹس پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔شدید عوامی دباؤ کے بعد چار ویب سائٹس ’وبلی، ومیو، ڈیلی موشن اور گٹہب‘ پر سے پابندی اٹھالی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ باقی ویب سائٹس پر سے پابندی اٹھالی جائے گی بشرط کہ انھوں نے تمام متعلقہ قوانین کی پاسداری کی۔انڈین وزارتِ مواصلات اور انفارمیشن ٹیکانالوجی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بعض ملک دشمن گروہ بھارت کے نوجوانوں کو جہادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے اکسا رہے ہیں۔اس بیان میں مزید کہا گیا کہ بنیادی طور پر تشویش اس بات پر ہے کہ اس ویب سائٹس پر کوئی مواد شائع کرنے کے لیے شناخت ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔جن چار ویب سائٹس پر سے پابندی ہٹائی گئی ہے ان کے بارے میں خیال کیا جا رہا کہ انھوں نے حکومت کے ساتھ مل کر ان شکایات کو دور کر دیا ہے جو پابندی کا باعث بنی تھیں لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انھوں نے کیا کیا ہے۔ویب سائٹس کے کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ انھیں ابھی تک ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل نہیں ہو رہی۔بھارت میں قائم سینٹر آف انٹر نیٹ سوسائٹی کے پرنیش پرکاش کا کہنا ہے کہ کوئی بھی سمجھدار آدمی یہ دیکھ سکتا ہے کہ یہ ویب سائٹس دہشت گردی پر نہیں اکسا رہی تھیں۔پابندی اٹھنے سے پہلے ومیو کی ترجمان نے کہا کہ ومیو کی یہ پالیسی ہے کہ وہ کسی بھی ایسی ویڈیو کی تشہیر نہیں کرتی جو دہشت گردی پر اکساتی ہو اور ایسی کسی ویڈیو کے بارے میں کوئی شکایت سامنے آئے تو اسے فوراً اتار لیا جاتا ہے۔انٹر نیٹ استعمال کرنے والے بہت سے لوگوں کئی ویب سائٹس کے بند ہونے سے پریشان ہیں جن میں ’پیسٹ بن‘ نامی ویب سائٹ بھی شامل ہے۔ پیسٹ بن پر صارفین نام ظاہر کیے بغیر تحریریں شائع کر سکتے ہیں۔بھارت کی حکومت کبھی کبھار ویب سائٹس پر پابندی لگاتی رہی ہے۔ سنہ 2012 میں 245 ویب سائٹس کو تشدد کے رجحان کو کم کرنے کے لیے بلاک کر دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…