جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پرویز مشرف کا حیرت انگیز انکشاف ملا فضل اللہ کو کس کی حمایت حاصل ہے؟ جاننے کیلئے کلک کریں

datetime 19  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی: ایک طرف جہاں ہمسایہ ملک ہندوستان کی جانب سے سانحہ پشاور پر پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی نے پشاور میں معصوم بچوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا، وہیں دوسری جانب سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف پشاور کے قتل عام پر پاکستان کے مشرقی ہمسایہ ہندوستان اور حامد کرزئی کی سابق افغان حکومت کو موردِ الزام ٹہرا رہے ہیں۔
سی این این ۔آئی بی این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں پرویز مشرف نے مولانا فضل اللہ کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ‘وہ تحریک طالبان پاکستان کاکمانڈر ہے، جو افغانستان میں مقیم ہے اور میں انتہائی ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ مولوی فضل اللہ کو پاکستان میں حملے کرنے کے سلسلے میں سابق افغان صدر کرزئی کی حکومت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی خفیہ ایجنسی ‘را’ کی بھی پوری حمایت حاصل تھی’۔
واضح رہے کہ پرویز مشرف کارگل کے محاذ پر شکست کے باوجود ہندوستان کے ساتھ امن کے حامی تھے۔
پرویز مشرف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب پوری قوم پیر کو پشاور کے اسکول میں طالبان کے حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کے قتل عام پر سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے حق میں تجزیئے اور تبصرے زبان زدعام ہیں۔
سابق صدر مشرف نے افغانستان پر مولوی فضل اللہ کوپناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ‘تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو حامد کرزئی کی حکومت کی حمایت حاصل تھی’۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فضل اللہ کو پاکستان پر حملوں کے لیے ہندوستانی ایجنسی ‘را’ نے بھی مدد اور سپورٹ فراہم کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…