جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور کی اہم سڑکوں پر تحریک انصاف کے دھرنے، مظاہرے اور جلاؤ گھیراؤ، کیا یہ تبدیلی ہے؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں

datetime 15  دسمبر‬‮  2014 |

لاہور: تحریک انصاف کی جانب سے انتخابی دھاندلی کے خلاف پلان سی کے تحت فیصل آباد اور کراچی کے بعد لاہور میں احتجاج کیا گیا جس میں پی ٹی آئی کے کارکنان نے شہر کے کئی مقامات پر سڑکیں بلاک کردیں جبکہ اس دوران مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی کال پر صبح 7 بجے ہی کارکنوں نے لاہور کے اہم مقامات پر ٹائر نذر آتش کرکے دھرنا دینا شروع کردیا اور اہم شاہراہوں کو بلا ک کردیا، پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے گلبرگ ، مغل پورہ، جی ٹی روڈ ،مال روڈ،شالیمار روڈ، والٹن روڈ، راوئیونڈ اور ملتان روڈ،  پی ایم جی، چوک یتیم خانہ، شاہدرہ موڑ، ٹھوکر نیاز بیگ پر دھرنا دیا گیا اور کارکنوں نے سڑکوں پر ٹائر نذر آتش کرتے ہوئے ٹریفک بلاک کردی جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پی ٹی آئی کے کارکنان جب دکانیں بند کرانے مزنگ چوک پہنچے تب (ن) لیگ کے کارکنان سے ان کا آمنا سامنا ہوگیا جبکہ بیڈرن روڈ پر تاجر اور پی ٹی آئی ورکرز کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی جسے پولیس نے موقع پر پہنچ کر ختم کرایا، چونگی امر سدھو کے مقام پر بھی پی ٹی آئی کارکنوں اور تاجروں کے درمیان دکانیں بند کرانے کے معاملے پر جھڑ پ ہوئی۔

تحریک انصاف کے کارکنوں نے احتجاج کے دوران میٹرو بس کے ٹریک پربھی جلاؤ گھیراؤ کیا اور بس پر پتھراؤ کرتے ہوئے سروس بند کرادی جب کہ شدید احتجاج کے باعث قلعہ گوجر سنگھ میں کوئین میری کالج اورانفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں آج ہونے والے پرچے ملتوی  کر دیئے گئے اور احتجاج کے سبب سرکاری دفاتراوراسکولوں میں حاضری بھی معمول سے کم رہی۔

دوسری جانب صوبائی حکومت نے شہر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…