جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ایسے ہی حالات رہے تو سیاسی گاڑی کی بریک فیل ہو جائے گی، سراج الحق

datetime 9  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام ا باد۔۔۔ سیاسی جرگے کے سربراہ اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سب کاموقف ہے کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تو دیر کس بات کی ہے جب کہ اس حوالے سے حکومت اور پی ٹی ا ئی ایک ہی صفحے پر ہیں۔اسلام ا باد میں سینیٹر رحمان ملک کی رہائشگاہ میں جرگہ ارکان سے بات چیت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ سیاسی جرگے نے 37 بار پی ٹی ا ئی اور حکومتی ارکان کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا لیکن بدقسمتی سے ماضی سے سبق نہیں سیکھا گیا، فیصل ا باد جیسے واقعات سے بچنے کے لئے حکومت اور تحریک انصاف کو مذاکرات کی میز پر ا نے کی ضرورت ہے اور اگر ایسے ہی حالات رہے تو سیاسی گاڑی کی بریک فیل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے، قوم کی طرح ہم بھی ملک کے مستقبل سے متعلق پریشان ہیں،ماضی سے سبق سیکھنا ہوگاورنہ مستقبل بھی ماضی کی طرح ہوگا۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ 1958 اور 1977 میں سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کو برداشت نہیں کیا جس کی وجہ سے مارشل لا کا سامنا کرنا پڑا، اسی طرح 1999 میں بھی تاریخ دہرائی گئی اور ایک مرتبہ پھر ویسے ہی حالات پیدا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جرگے نے متعدد بار فریقین سے ملاقات کرکے ماحول کو بند گلی سے نکالا جب کہ حکومت نے کہا کہ پی ٹی ا ئی وزیراعظم کے استعفے سے پیچھے ہٹے اور ہم نے اس حوالے سے عمران خان سے بات کی جس پر انہوں نے لچک کا مظاہرہ کیا اور اب فریقین جوڈیشل کمیشن پر رضامند ہیں تو فوری طور پر دھاندلی کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنا دینا چاہیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…