اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

راولپنڈی میں سکول اساتذہ کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی

datetime 8  دسمبر‬‮  2014 |

راولپنڈی۔۔۔۔ محکمہ تعلیم راولپنڈی نے اسکول میں اساتذہ کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی ہے، جس کے باعث انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس پابندی کے اطلاق کے لیے ہیڈ ٹیچرز اور پرنسپلز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ صبح اسمبلی کے وقت تمام اساتذہ سے موبائل فون لے لیں اور اسکول کا وقت ختم ہونے کے بعد انھیں واپس کردیں۔ڈھوک حسو کے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی ایک ٹیچر کے مطابق ‘کل ہمارے ہیڈ ٹیچر نے ہمیں بتایا کہ اب ہمیں اسکول میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انھوں نے صبح ہم سے موبائل فون لے لیے اور دن کے اختتام پر واپس کر دیئے’۔جب محکمہ تعلیم کے ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر (ای ڈی او) ظہور الحق سے اس پابندی کے حوالے سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ’ یہ فیصلہ اس وجہ سے کیا گیا ہے کیونکہ ہمیں رپورٹس ملی تھیں کہ اساتذہ اسکول میں موبائل فون پر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ طالب علموں کے بہترین مفاد میں کیا گیا ہے اور اس پابندی پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کو معطل کردیا جائے گا۔ای ڈی او کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی محکمہ تعلیم کی جانب سے کلاس روم میں اساتذہ کے موبائل فون استعمال کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئیں لیکن ان ہدایات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔’یہی وجہ ہے کہ اس پابندی کا اطلاق کرنے کے لیے ہمارے پاس اس کے علاوہ اورکوئی چارہ نہیں تھا کہ ہیڈ ٹیچرز اسکول اسمبلی کے دوران اساتذہ سے ان کے موبائل لے کر اپنے پاس رکھ لیں’۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں ہیڈ ٹیچرز کی اجازت سے اساتذہ اپنے موبائل استعمال کر سکیں گے۔پنجاب ٹیچرز یونین راولپنڈی کے صدر حامد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ‘ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کلاس روم میں موبائل کا استعمال نہیں ہونا چاہیے، تاہم ٹیچرز کو کلاس روم سے باہر موبائل کے استعمال سے نہیں روکا جانا چاہیے’۔ایک اسکول ٹیچر راجا شاہد کا کہنا تھا کہ ‘کلاس روم میں موبائل کے استعمال پر پابندی ہونی چاہیے لیکن اسمبلی کے دوران ٹیچرز سے ان کے موبائل لے کر رکھ لینا بالکل فضول بات ہے۔ اس بات کا اختیار اساتذہ کے پاس ہونا چاہیے کہ وہ کب اپنا موبائل استعمال کر سکتے ہیں’۔ایک ایریا ایجوکیشن آفسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ زیادہ تر اساتذہ کلاس روم میں موبائل استعمال کرتے ہیں اور ان کی توجہ طلباء4 کو پڑھانے کی طرف نہیں ہوتی۔انھوں نے بتایا کہ کلاس روم میں موبائل کے استعمال پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں پنجاب کے قانون برائے ملازمین کی کارکردگی، نظم و ضبط اور احتساب ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔یاد رہے کہ کلاس روم میں موبائل کے استعمال پر پہلے سے ہی پابندی عائد تھی تاہم اس کے تحت انھیں صرف وارننگ دے کر چھوڑ دیا جاتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…