جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ نے گوانتاناموبے سے چھ قیدیوں کو رہا کر دیا

datetime 7  دسمبر‬‮  2014 |

واشنگٹن ۔۔۔۔۔امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے گوانتاناموبے سے چھ قیدیوں کو رہا کر کے آباد ہونے کے لیے یوراگوئے بھجوا دیا ہے۔اتوار کے روز پینٹاگان سے جاری ایک بیان کے مطابق رہا ہونے والوں میں ایک تیونس، ایک فلسطین اور چار شام کے شہری ہیں۔ان افراد کو القائدہ سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا مگر ان پر کبھی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔یوراگوائے کے صدر جوزے موجیکا نے اس سال مارچ میں ان قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے ملک میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔پینٹاگون سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا گوانتاناموبے کی جیل کو بند کر نے کی کوششوں میں یوروگوئے کی حکومت کی مدد پر شکرگزار ہے۔یاد رہے کہ گوانتانامو میں موجود 172 قیدیوں میں سے نصف سے زائد کی منتقلی کی منظوری دی جا چکی ہے مگر وہ غیر محفوظ یا غیر مستحکم ممالک کے شہری ہیں اس لیے ان کو واپس نہیں بھجوایا جا سکا۔اب تک 50 سے زائد ممالک گوانتانامو سے رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دے چکے ہیں مگر لاطینی امریکہ میں سلواڈور واحد ملک ہے جس نے 2012 میں دو قیدیوں کو پناہ دی۔امریکہ کے مطابق یوراگوئے بھجوائے جانے والے قیدیوں کے نام احمد عدنان احجم، عمر محمود فراج، عبدلبن محمد ابِس اورگی، محمد تاماتن اور جیحد دئیب ہیں۔یوراگو میں حال ہی میں کیے جا نے والے ایک سروے کے مطابق عوام کی اکثریت ان قیدیوں کی آمد کے خلاف ہے۔مگر ملک کے صدر جوزے موجیکا جو خود فوجی دورِ حکومت میں دس سال قید کاٹ چکے ہیں، رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دینے کے حق میں ہیں۔جمعے کو چھ قیدیوں کو لینے کے عزم کو دوہراتے ہوئے ان کا کہنا تھا، یوراگوائے گوانتانامو بے میں ایک خوفناک اغوا کا سامنا کرنے والے انسانوں کو اپنی مہمان نوازی کی پیشکش کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…