اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکہ نے گوانتاناموبے سے چھ قیدیوں کو رہا کر دیا

datetime 7  دسمبر‬‮  2014 |

واشنگٹن ۔۔۔۔۔امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے گوانتاناموبے سے چھ قیدیوں کو رہا کر کے آباد ہونے کے لیے یوراگوئے بھجوا دیا ہے۔اتوار کے روز پینٹاگان سے جاری ایک بیان کے مطابق رہا ہونے والوں میں ایک تیونس، ایک فلسطین اور چار شام کے شہری ہیں۔ان افراد کو القائدہ سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا مگر ان پر کبھی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔یوراگوائے کے صدر جوزے موجیکا نے اس سال مارچ میں ان قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے ملک میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔پینٹاگون سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا گوانتاناموبے کی جیل کو بند کر نے کی کوششوں میں یوروگوئے کی حکومت کی مدد پر شکرگزار ہے۔یاد رہے کہ گوانتانامو میں موجود 172 قیدیوں میں سے نصف سے زائد کی منتقلی کی منظوری دی جا چکی ہے مگر وہ غیر محفوظ یا غیر مستحکم ممالک کے شہری ہیں اس لیے ان کو واپس نہیں بھجوایا جا سکا۔اب تک 50 سے زائد ممالک گوانتانامو سے رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دے چکے ہیں مگر لاطینی امریکہ میں سلواڈور واحد ملک ہے جس نے 2012 میں دو قیدیوں کو پناہ دی۔امریکہ کے مطابق یوراگوئے بھجوائے جانے والے قیدیوں کے نام احمد عدنان احجم، عمر محمود فراج، عبدلبن محمد ابِس اورگی، محمد تاماتن اور جیحد دئیب ہیں۔یوراگو میں حال ہی میں کیے جا نے والے ایک سروے کے مطابق عوام کی اکثریت ان قیدیوں کی آمد کے خلاف ہے۔مگر ملک کے صدر جوزے موجیکا جو خود فوجی دورِ حکومت میں دس سال قید کاٹ چکے ہیں، رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دینے کے حق میں ہیں۔جمعے کو چھ قیدیوں کو لینے کے عزم کو دوہراتے ہوئے ان کا کہنا تھا، یوراگوائے گوانتانامو بے میں ایک خوفناک اغوا کا سامنا کرنے والے انسانوں کو اپنی مہمان نوازی کی پیشکش کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…