جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کے جلسہ عام میں قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔ وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں تحریک انصاف کے جلسہ عام کی تمام تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں جب کہ جلسے میں شرکت کے لئے ملک بھر سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔اسلام آباد کی انتظامیہ سے طے پانے والے معاہدے کے تحت تحریک انصاف آج ڈی چوک پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہی ہے اس سلسلے میں منعقد کیا جانے والا جلسہ پریڈ ایونیو پر ہورہا ہے، جلسہ گاہ کے ایک جانب پارلیمنٹ لاجز ہیں اور عقب میں پارلیمنٹ ہاوس، ایوان صدر، سپریم کورٹ، وزیر اعظم ہاؤس اور پاک سیکرٹریٹ جیسی اہم عمارتیں اور ڈپلومیٹک انکلیو واقع ہے۔ جلسہ گاہ کی لمبائی ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر جبکہ چوڑائی 80 میٹر رکھی گئی ہے، جلسہ گاہ میں داخل ہونے کے لئے مارگلہ روڈ، پی ٹی وی چوک، ایکسپریس چوک اور کنونشن سینٹر کے سامنے شاہراہ دستور کے راستوں سے پیدل رسائی دی گئی ہے۔ جلسہ گاہ میں ساؤنڈ سسٹم کو مزید موثر بنایا گیا ہے جس سے عمران خان کا خطاب 5 کلو میٹر کے فاصلے تک سنا جائے گا۔جلسہ گاہ میں خواتین، عام شرکا و کارکنوں اور مرکزی رہنماؤں کے لئے الگ الگ راستے مختص کئے گئے ہیں، جن پر 34 واک تھرو گیٹس لگائی گئے ہیں۔ جلسے میں شرکت کے لئے لوگوں کا جوش و خروش عروج پر ہے اور ملک بھر سے تحریک انصاف کے کارکنوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جلسہ گاہ میں پارٹی ترانوں اور ملی نغموں کے ذریعے اس میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔انتظامیہ نے تحریک انصاف کے جلسے کے دوران سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر موٹر سائیکل کی ڈبل سواری اور ہیلی کیم کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ اس دوران دفعہ 144 بھی نافذ رہے گی تاہم جلسے کے شرکا کی گزرگاہوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ جلسہ گاہ کو کنٹینر ز لگا کر محصور کردیا گیا ہے، جلسہ گاہ کی اندرونی سیکیورٹی تحریک انصاف کی ذمہ داری ہو گی جو پارٹی کے رضاکار سر انجام دے رہے ہیں۔ جلسے کے باہر اور دیگر اہم مقامات پر اسلام آباد اور آزادکشمیر پولیس کے علاوہ پنجاب کانسٹبلیری اوررینجرز کے 20 ہزاراہلکار سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ جلسے میں داخلے کے لئے مخصوص راستوں اور جامہ تلاشی کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمروں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے جبکہ اہم عمارتوں پر پولیس اہلکار موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…