بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

عامر کی واپسی سے پہلے ہی کرکٹ کی دنیا میں کھلبلی مچ گئی

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2014 |
لاہور۔۔۔۔ اسپاٹ فکسر عامر کی واپسی کا سن کر ابھی سے ہی قومی کرکٹ ٹیم میں بے چینی پھیل گئی۔
پلیئرز نے پیسرکو ناپسندیدہ قرار دیدیا، چیئرمین پی سی بی شہریار خان کا کہنا ہے کہ ڈریسنگ روم میں فاسٹ بولر کے بارے میں چہ مگوئیاں ہورہی ہیں،کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کریں گے،انھوں نے ورلڈکپ میں ٹیم منیجر کا عہدہ پانے کیلیے نوید اکرم چیمہ کو مضبوط امیدوار قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہریار خان نے انکشاف کیاکہ قومی ٹیم کے چند کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ محمد عامر کے ساتھ کھیلنے کو تیار نہیں ہیں،ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پیسر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے حوالے سے سابق کرکٹرز کی باتوں میں وزن ہے، دوسری جانب ڈریسنگ روم سے بھی ان کی مخالفت میں ا?وازیں اٹھ رہی ہیں کہ پلیئرز خوش دلی سے محمد عامر کے ساتھ کھیلنے کو تیار نہیں ہونگے۔ چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ اس معاملے میں بھی کوئی جلد بازی نہیں کرنا چاہتے، ابھی تو ا ئی سی سی کے ترمیم شدہ قانوں کے مطابق پیسر کو پابندی ختم ہونے سے کچھ عرصہ قبل ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت کیلیے کارروائی شروع کی ہے، دیکھنا ہو گاکہ کونسل اس ضمن میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔عامر کو انٹرنیشنل میچز میں شرکت کا موقع دینے کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ اس وقت چیف سیکریٹری پنجاب کے طور پر کام کرنے والے نوید اکرم چیمہ ورلڈ کپ میں ٹیم منیجر کے عہدہ کیلیے اولین انتخاب ہیں، البتہ حکومت چاہتی ہے کہ وہ پہلی ذمہ داریاں ہی سنبھالے رکھیں، انھوں نے حکام سے مزید بات چیت کیلیے وقت مانگا ہے، اگر اجازت مل گئی تو معین خان کی جگہ ٹیم منیجر کے طور پر وہی اسکواڈ کے ہمراہ ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…