منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مسلمان گورنر کے بیان نے بھارتی مسلمانوں کے لئے نئی پریشانی پیدا کر دی

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نئی دہلی۔۔۔۔بھارت کی ریاست اتر کھند کے گورنر عزیز قریشی نے کہا کہ جو لوگ گائے کوذبح کرتے ہیں انہیں بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ایک مسلمان گورنر کے اس بیان نے بھارت میں ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گورنر قریشی نے کہا کہ وہ شخص بھارتی ہو ہی نہیں سکتا جو گائے کے ذبیحہ میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ایسے شخص کے چہرے پر کالی سیاہی مل کر ملک سے باہر پھینکنے کو ترجیح دیں گے۔ بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق قریشی نے عوامی اجتماع میں کہا کہ ہم گائے کو ماتا کی مانند قرار دے چکے ہیں اور اس مسئلے سے کروڑوں کے جذبات جڑے ہوئے ہیں۔جو بھی گائے کو ذبح کرے گا وہ قانون کی خلاف ورزی کریگا اور ایسے شخص کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔وزیراعلیٰ ہریش راوت کا کہنا ہے کہ قریشی کا یہ بیان ان کے ذاتی خیال ہیں۔سیاسی ماہر قریشی کے اس بیان کو اپنا عہدہ برقرار رکھنے کا حربہ سمجھ رہے ہیں۔ نریندر مودی کے مئی میں وزار ت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد مرکز کی طرف سے عزیز قریشی کو ان کے گورنری کا عہدہ چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔ اس پرانہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔اگست میں سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ کے گورنر کی درخواست پر مرکز کو نوٹس جاری کیا تھا۔ جس میں انہوں نے نریندر مودی کی حکومت کے اقدامات کو چیلنج کیا تھا۔سپریم کورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو بھی نوٹس جاری کیا تھا جس میں انہوں نے گورنرعزیز قریشی کو مبینہ طور پر دھمکی دی تھی کہ وہ استعفیٰ دیں ورنہ مرکز کی طرف سے برطرفی کا سامنے کیلئے تیار ہو جائیں۔قریشی مودی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے والے پہلے گورنر تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…