اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

یوتھ لون پروگرام کے لیے مریم نواز کی تقرری کا معیار کیا ہے؟

datetime 23  اکتوبر‬‮  2014 |

لاہور ہائی کورٹ نےوفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے لون کے پروگرام کی قانونی حیثیت اور اس کے سربراہ کی تقرری کے معیار کے بارے میں عدالت کو مطلع کرے۔

وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز شریف کی وزیراعظم کو یوتھ لون پروگرام کے چیئرپرسن کے عہدے پر تقرری کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس منظور علی شاہ نے کہا کہ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ سرکاری رقم کو کس قانون کے تحت سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زبیر نیازی کی جانب سے دائر کردہ اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ قابلِ اعتراض تقرری سراسر اقربا پروری کا نتیجہ ہے۔

جسٹس منظور علی شاہ نے بھی سرکاری رقم کو حکمران خاندان کے ایک فرد کے ہاتھ میں دینے پر تشویش کا اظہار کیا۔

فاضل جج نے اس مقدمے کے سماعت تیس اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے افسر قانون کو ہدایت کی کہ وہ اس پٹیشن میں اٹھائے گئے نکات پر حکومتی ہدایات کے ساتھ پیش ہوں۔

جسٹس منظور علی شاہ نے کہا کہ اگلی تاریخ پر اس لون پروگرام کے کسی ذمہ دار نمائندے کی ذاتی موجودگی بھی ضروری ہے۔

اس سے قبل درخواست گزار کے وکیل شیراز ذکاء نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی بیٹی کو لون پروگرام کا سربراہ مقرر کرکے ناصرف آئین کی خلاف ورزی کی بلکہ ایک روایت ڈال دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تقرری سے قبل نہ تو کوئی اشتہار دیا گیا نہ ہی سرکاری نوٹس جاری کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…