اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

سرنگ کے ذریعے کراچی سینٹرل جیل میں قید دہشتگردوں کو چھڑانے کا منصوبہ

datetime 13  اکتوبر‬‮  2014 |

سندھ رینجرز نے سرنگ کے ذریعے کراچی سینٹرل جیل میں قید دہشتگردوں کو چھڑانے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کئی افراد کو گرفتار کرلیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سندھ رینجرز کے کرنل طاہر نے کہا کہ کراچی سینٹرل جیل میں خطرناک قیدی موجود ہیں اس لئے جیل کی سیکیورٹی پر کام ہورہا ہے، حساس اداروں کی رپورٹ پر 10 اور 11 اکتوبر کی درمیانی شب کراچی سینٹرل جیل سے ملحقہ غوثیہ کالونی کے ایک مکان پر کارروائی کی گئی۔ کارروائی کے دوران مکان میں ایک سرنگ تیار کی جارہی تھی جس کا مقصد سینٹرل جیل میں قید دہشتگردوں کو چھڑانا تھا۔ دہشتگردوں نے یہ مکان 5 ماہ قبل خریدا تھا اورانہوں نے سرنگ کھودنے کی کارروائی مکان کی زیر زمین پانی کی ٹنکی سے شروع کی، اس سرنگ کو انتہائی حساس آلات کی مدد سے تیار کیا جارہا تھا، ملزمان سرنگ سے نکالی گئی مٹی دوسرے علاقے میں پھینک کرآتے تھے۔ ملزمان سرنگ کھود کر جیل میں موجود کنویں تک پہنچنا چاہتے تھے، منصوبے کے مطابق انہیں 55 میٹر سرنگ کھودنا تھی جس میں سے انہوں نے 45 میٹر سرنگ کھود لی تھی، کارروائی کے وقت دہشتگرد اپنے ہدف سے صرف 10 میٹر دور تھے۔

کرنل طاہر کا کہنا تھا کہ مکان پر کارروائی کے وقت حراست میں لئے گئے افراد کے پاس کسی بھی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں تھا تاہم دوران حراست ان کی جانب سے ملنے والی معلومات کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں مزید کئی افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان کے قبضے سے بھاری ہتھیار اور بارودی مواد بھی ملا ہے، اس کے علاوہ اس شخص کو بھی تلاش کیا جارہا ہے جس نے سرکاری اراضی پر گھر تعمیر کرکے اسے فروخت کیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کے بارے میں وہ کوئی بات نہیں کرسکتے لیکن ہم نے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑدیا ہے۔

کرنل طاہر نے مزید بتایا کہ منظم منصوبے کے تحت جیل توڑنے کی کوشش کی گئی، اس سازش میں کالعدم تنظیموں کے لوگ ملوث ہیں، اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان دہشت گردوں کو جیل کے اندر سے بھی معاونت حاصل تھی۔ سندھ رینجرز اور قومی سلامتی سے متعلق ادارے مشترکہ طور پر دہشتگردوں سے تفتیش کررہے ہیں جس کی روشنی میں مزید کاروائیاں بھی کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…