پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

سرنگ کے ذریعے کراچی سینٹرل جیل میں قید دہشتگردوں کو چھڑانے کا منصوبہ

datetime 13  اکتوبر‬‮  2014 |

سندھ رینجرز نے سرنگ کے ذریعے کراچی سینٹرل جیل میں قید دہشتگردوں کو چھڑانے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے کئی افراد کو گرفتار کرلیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سندھ رینجرز کے کرنل طاہر نے کہا کہ کراچی سینٹرل جیل میں خطرناک قیدی موجود ہیں اس لئے جیل کی سیکیورٹی پر کام ہورہا ہے، حساس اداروں کی رپورٹ پر 10 اور 11 اکتوبر کی درمیانی شب کراچی سینٹرل جیل سے ملحقہ غوثیہ کالونی کے ایک مکان پر کارروائی کی گئی۔ کارروائی کے دوران مکان میں ایک سرنگ تیار کی جارہی تھی جس کا مقصد سینٹرل جیل میں قید دہشتگردوں کو چھڑانا تھا۔ دہشتگردوں نے یہ مکان 5 ماہ قبل خریدا تھا اورانہوں نے سرنگ کھودنے کی کارروائی مکان کی زیر زمین پانی کی ٹنکی سے شروع کی، اس سرنگ کو انتہائی حساس آلات کی مدد سے تیار کیا جارہا تھا، ملزمان سرنگ سے نکالی گئی مٹی دوسرے علاقے میں پھینک کرآتے تھے۔ ملزمان سرنگ کھود کر جیل میں موجود کنویں تک پہنچنا چاہتے تھے، منصوبے کے مطابق انہیں 55 میٹر سرنگ کھودنا تھی جس میں سے انہوں نے 45 میٹر سرنگ کھود لی تھی، کارروائی کے وقت دہشتگرد اپنے ہدف سے صرف 10 میٹر دور تھے۔

کرنل طاہر کا کہنا تھا کہ مکان پر کارروائی کے وقت حراست میں لئے گئے افراد کے پاس کسی بھی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں تھا تاہم دوران حراست ان کی جانب سے ملنے والی معلومات کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی گئی جس کے نتیجے میں مزید کئی افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان کے قبضے سے بھاری ہتھیار اور بارودی مواد بھی ملا ہے، اس کے علاوہ اس شخص کو بھی تلاش کیا جارہا ہے جس نے سرکاری اراضی پر گھر تعمیر کرکے اسے فروخت کیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کے بارے میں وہ کوئی بات نہیں کرسکتے لیکن ہم نے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑدیا ہے۔

کرنل طاہر نے مزید بتایا کہ منظم منصوبے کے تحت جیل توڑنے کی کوشش کی گئی، اس سازش میں کالعدم تنظیموں کے لوگ ملوث ہیں، اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان دہشت گردوں کو جیل کے اندر سے بھی معاونت حاصل تھی۔ سندھ رینجرز اور قومی سلامتی سے متعلق ادارے مشترکہ طور پر دہشتگردوں سے تفتیش کررہے ہیں جس کی روشنی میں مزید کاروائیاں بھی کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…